خطابات مریم (جلد دوم) — Page 126
خطابات مریم 126 خطابات اس کو روک سکے۔روحانی خزائن جلد 20 - تذكرة الشہا دتین صفحہ 67) 1973ء کے جلسہ سالانہ پر حضرت خلیفہ اسیح الثالث ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے آپ کو بشارت دی تھی کہ جماعت کے قیام کی دوسری صدی میں انشاء اللہ العزیز غلبہ اسلام کے دور کا آغاز ہوگا۔1889ء میں جماعت احمدیہ کا آغاز ہوا تھا۔1989ء میں سو سال پورے ہوں گے۔یہ 1975ء ختم ہو رہا ہے گویا تیرہ، چودہ سال صدی کے ختم ہونے میں باقی ہیں ایک زندہ رہنے اور ترقی کرنے والی قوم کی زندگی میں تیرہ، چودہ سال کا عرصہ کوئی لمبا عرصہ نہیں۔خدائی وعدوں اور بشارتوں کے ساتھ ایک پہلوانذار کا ہمیشہ لگا ہوتا ہے۔اللہ تعالیٰ جب کسی قوم کو بشارت دیتا ہے ان سے کامیابیوں کے وعدے فرماتا ہے تو وہ قربانیوں کے ساتھ مشروط ہوتے ہیں۔قرآن کریم میں اس کی مثالیں موجود ہیں۔آنتمُ الأَعْلَوْنَ إِنْ كُنْتُمْ مُؤْمِنِيْنَ (آل عمران: 140) کی شرط قرآن مجید میں لگا دی گئی ہے کہ غلبہ کامل ایمان کے نتیجہ میں ملتا ہے۔خلافت کے وعدوں کے ساتھ بھی اللہ تعالیٰ نے یہ شرط لگائی ہے کہ اگر ایمان پر قائم رہے اور اعمالِ صالحہ بجالاتے رہے تو خلافت کا انعام تم میں قائم رہے گا۔اللہ تعالیٰ نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ذریعے جماعت احمدیہ کو کامیابی اور اسلام کے غلبہ کی بشارت دی ہے لیکن اس کے لئے ضرورت ہے کہ اللہ تعالیٰ کے اس وعدے پر کامل یقین اور ایمان ہو۔انسان کوشش بھی اسی بات کے لئے کرتا ہے جب اس کے دل کو یقین ہو ورنہ اس میں کمزوری آ جاتی ہے۔الہی وعدوں اور بشارتوں پر یقین رکھتے ہوئے مصائب سے نہیں گھبرانا چاہئے یہ تو چھوٹے چھوٹے امتحان ہیں جو پہلے بھی ہوتے رہے ہیں اور آئندہ بھی ہوتے رہیں گے لیکن ہو گا وہی جو آسمان پر قرار پاچکا ہے زمین کی طاقت میں نہیں کہ اس کو محو کر سکے۔عمل صالح بھی کامل یقین کے نتیجہ میں پیدا ہوتا ہے کسی چیز کے حصول کا آپ کو یقین ہو تو آپ اس کے لئے کوشش بھی کریں گے ورنہ صحیح کوشش نہیں ہوگی۔اگلے تیرہ چودہ سال ہمارے لئے ایک ایسے امتحان کی تیاری کا زمانہ ہے جس کے بعد کامیابی مقدر ہے۔جس طرح ایک طالب علم چودہ سال کی محنت کے بعد بی۔اے کی ڈگری حاصل کرتا ہے اگر وہ درمیان میں تھک