خطابات مریم (جلد دوم)

by Other Authors

Page 127 of 988

خطابات مریم (جلد دوم) — Page 127

خطابات مریم 127 خطابات پڑھنا چھوڑ دے تو اس منزل تک نہیں پہنچ سکتا۔اسی طرح احمدی جماعت کے ہر مرد ، عورت، لڑکے، لڑکی ہر ایک کو شانہ بشانہ، قدم بقدم غلبہ اسلام کی شاہراہ پر چلنا ہے اور تیز چلنا ہے اور کہیں کمزوری نہیں آنے دینی۔کمزوریاں کئی قسم کی ہوتی ہیں۔اعتقادی بھی ہوتی ہیں عملی بھی ہوتی ہیں۔اعتقادی طور پر کمزوری کا مطلب یہ ہے کہ غلط کام کو صحیح سمجھ کر شروع کر دیں۔اس پر عمل کرنے لگ جائیں۔اس تواتر سے کہ غلطی کا احساس ہی مٹ جائے۔اسلام کے پہلے دور میں یہی ہوا جب فتوحات کا دور شروع ہوا اور اسلام میں کثرت سے لوگ داخل ہونے شروع ہوئے تو بعض کمزور اپنے ساتھ دوسرے مذاہب کے اعتقادات لے آئے۔صحیح تربیت نہ ہو سکنے کے باعث نہ صرف یہ کہ باوجود مسلمان ہونے کے وہ باتیں ان میں باقی رہیں بلکہ دوسرے مسلمانوں میں بھی غلط عقائد پیدا ہوئے جنہوں نے آہستہ آہستہ اسلام کے حسن پر ایک پردہ ڈال دیا اور غیر مذاہب والوں کو اسلام پر اعتراضات کے مواقع ملنے لگے۔یہ چیز اب نہیں دہرائی جانی چاہئے۔ہم نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو مانا ہے جن کی بعثت کی غرض ہی يُحي الدين ويُقيم الشريعة ( تذکرہ صفحہ 55) ہے کہ آپ دین کو زندہ کریں گے اور شریعتِ محمدیہ کو قائم کریں گے۔وہ سیدھی ، صاف خوبصورت تعلیم اسلام کی جو قرآن مجید نے پیش کی اور جس پر محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عمل کیا اُس تعلیم کو اپنے نمونہ سے دنیا کے سامنے پیش کرنا جماعت احمدیہ کا فرض ہے۔ہر زمانہ میں حالات بدلتے رہتے ہیں صرف دلائل سے آپ کسی کو قائل نہیں کر سکتیں۔جب تک آپ کا عمل اس کے مطابق نہ ہو۔یہی تعلیم کہ عمل اور عقائد کا چولی دامن کا ساتھ ہے۔حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے اس قول سے ہمیں پتہ چلتا ہے۔کسی نے حضرت عائشہ سے سوال کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اخلاق کے متعلق کچھ بتا ئیں۔آپ نے فرمایا كَانَ خُلُقُهُ القُران ( مسند احمد بن حنبل جلد 6 صفحہ 91) آپ کے اخلاق قرآن تھے۔یعنی جو تعلیم قرآن میں دی گئی اس پر آپ کا عمل تھا۔آپ کے اخلاق آئینہ تھے قرآن کا۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے اخلاق کا یہ پہلو ہمیں سکھاتا ہے کہ ہمارے قول اور فعل میں کوئی تضاد نہیں ہونا چاہئے۔جس قوم کے قول اور فعل میں تضاد ہو وہ قوم ترقی نہیں کر سکتی۔دعویٰ ہمارا یہ ہو کہ ساری دنیا کو اسلام کے جھنڈے تلے جمع کرنا ہے اور خود نمازوں میں سستی ہو ، روزے