خطابات مریم (جلد دوم) — Page 121
خطابات مریم 121 خطابات نے شرائط بیعت میں بھی ایک شرط یہ رکھی کہ تمام خلق اللہ سے ہمدردی رکھوں گا۔خدا کی خاطر، خدا کے بندوں سے محبت رکھوں گا۔کسی سے کینہ نہ رکھو کسی سے بغض نہ رکھو اور پھر ان سب باتوں کے ساتھ ساتھ نظام کی کامل اطاعت ہو۔نظام کا ہر فر دخلیفہ وقت کی طرف سے مقرر کردہ ہوتا ہے اُس کی نافرمانی کرنے سے خلیفہ وقت کی نافرمانی ہوتی ہے۔اسلام کی ترقی کا راز ہی اطاعت میں ہے۔نماز بھی ہمیں یہی سکھاتی ہے۔کس طرح ہم امام کے ساتھ اُٹھتے ہیں ، بیٹھتے ہیں ساتھ ہی سجدے میں جاتے ہیں۔اسلام کی ساری تعلیم گھومتی ہی اسی محور پر ہے کہ اللہ کی اطاعت کرو، اللہ کے رسول کی اطاعت کرو اور تم پر جو حاکم مقرر کئے گئے ہیں اُن کی اطاعت کر و۔نظام سے وابستگی رکھیں جماعت سے وابستگی اور اپنی اولادوں کے دلوں میں خلافت سے محبت اور عقیدت پیدا کریں یہ ایک بہت بڑا انعام ہے جو خدا تعالیٰ نے جماعت احمدیہ کو عطا فرمایا ہے۔یہ یاد رکھنا چاہئے میں پہلے بھی اپنی تقریر میں بتا چکی ہوں کہ یہ انعام جیسا کہ قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔” مشروط انعام ہے جب تک کوئی قوم اپنے تئیں خلافت کے انعام کا حقدار رکھتی ہے وہ انعام اُن میں موجود رہتا ہے۔پس ہمیں چاہئے کہ جہاں اس انعام کے مستحق اور لائق بن کر دکھا ئیں وہاں بے انتہا دعائیں کریں کہ اللہ تعالیٰ ہمیشہ کیلئے خلافت ہم میں قائم رکھے۔اسلام کا غلبہ ہو۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تمام پیشگوئیاں پوری شان و شوکت سے پوری ہوتی دیکھیں۔خدا تعالیٰ کی محبت اور رضا ہمیں حاصل ہو اور ہماری اگلی نسل ہم سے زیادہ قربانی دینے والی اور کام کرنے والی، اسلام کا جھنڈا لے کر دنیا کے کونے کونے میں پہنچنے والی اور رب حقیقی اور خالق باری کیلئے اسلام کا پیغام دنیا کو پہنچانے والی ہو۔وہ خدا کی محبت میں سرشار ہو۔وہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت کرنے والی اور آپ کے ہر قول کی اطاعت کرنے والی اور اسلام کی خاطر اپنی گردنیں کٹوانے میں فخر محسوس کرنے والی ہوں۔اللہ تعالیٰ مجھے اور آپ کو اور سب کو اس بات کی توفیق عطا فرمائے کہ ہمارے قول اور فعل میں کوئی تضاد نہ ہو ہم جو کچھ اپنے منہ سے کہیں اُس پر عمل پیرا بھی ہوں۔آمین (ماہنامہ مصباح اگست 1975ء)