خطابات مریم (جلد دوم)

by Other Authors

Page 954 of 988

خطابات مریم (جلد دوم) — Page 954

خطابات مریم 954 آل پاکستان لجنہ میچز منعقدہ دسمبر 1990ء زریں نصائح حضرت سیدہ صدر صاحبہ نے مختصر افتتاحی خطاب میں فرمایا کہ امسال اجتماع کے لیٹ ہونے اور امتحانات کی وجہ سے کھلاڑی لڑکیوں کی تعداد کافی کم ہے لہذا آپ جب واپس جائیں تو عہد یداران کو جا کر پیغام دیں کہ ہمیں اپنی مناسب آراء بھجوائیں کہ کھیلوں کے لیے کونسا مہینہ مناسب ہوگا یہ مقابلے موسم گرما میں نہیں کروائے جا سکتے۔اوّل تو پنجاب میں گرمی بہت زیادہ ہوتی ہے اور دوسرے ہال میں پنکھے چلانے بھی ممکن نہیں لہذا مناسب مشورے تحریر کر کے ارسال کریں۔بعد ازاں آپ نے فرمایا کہ فَاسْتَبِقُوا الخَیرات کو ہمیشہ مدنظر رکھیں ہر نیکی میں ایک دوسرے سے آگے بڑھنے کی کوشش کریں خواہ وہ تعلیم ہو عبادت ہو یا خدمت خلق ہو۔ہماری کھیلیں بھی اسی زمرے میں آتی ہیں کیونکہ آپ کو یہاں پر اچھا ماحول میسر آتا ہے اور صحت مند مقابلہ کی فضاء ہوتی ہے لہذا آپ تکلیف پہنچائے بغیر اس میں آگے بڑھنے کی کوشش کریں اور اگر کسی ضیف کی کوئی بات غلط محسوس ہو تو بھی ان کے فیصلے کو ماننے کی کوشش کریں جس بات سے منع کیا جائے وہ نہ کریں بعض کھلاڑیوں کو Draws وغیرہ پر اعتراض ہوتا ہے حالانکہ یہ میرے سامنے نکالے جاتے ہیں اس میں کسی کی پسند نا پسند کا دخل نہیں ہوتا لہذا یہ اعتراض بے بنیاد ہے۔تقریب تقسیم انعامات حضرت سیدہ صدر صاحبہ لجنہ اماء اللہ پاکستان نے تقریب کے اختتام پر کھلاڑی لڑکیوں سے خطاب فرمایا جس میں آپ نے فرمایا کہ میں نے قبل ازیں یہ بھی بتایا تھا کہ میچز کے لیے یہ مہینہ مناسب نہیں کیونکہ اس عرصہ میں تعلیمی مصروفیات بہت زیادہ ہوتی ہیں لیکن میچز کا الگ انعقاد اس لیے کیا گیا تھا کہ دونوں مقابلوں سے لطف اندوز ہوا جا سکے۔آپ نے فرمایا کہ جتنی جان آپ بچیاں کھیل میں لڑاتی ہیں اگر اس سے آدھی جان آپ قرآن مجید کا ترجمہ سکھنے کی طرف صرف کریں تو آپ کو اس میں کوئی مشکل پیش نہیں آئے گی لہذا آپ دوسری نیکیوں کی سرانجام دہی کے لیے بھی ایسے ہی جانیں لڑائیں۔کیونکہ اللہ تعالیٰ نے جماعت احمدیہ کا قیام اسی لیے فرمایا ہے کہ دنیا سے نا پا کی ختم ہو اللہ تعالیٰ آپ کو یہ ذمہ داری اُٹھانے کی توفیق عطا فرمائے۔آمین (سالانہ رپورٹ لجنہ اماءاللہ پاکستان 1991ء)