خطابات مریم (جلد دوم) — Page 72
خطابات مریم 72 تحریرات ہمارا جلسہ سالانہ جلسہ سالانہ کی بناء حضرت بانی سلسلہ احمدیہ نے 1891ء میں ڈالی اور اس سال اس پر سو سال پورے ہو رہے ہیں درمیان میں بعض ناگزیر مجبوریوں کے باعث بعض جلسے ملتوی بھی ہوتے رہے۔1946 ء تک یہ جلسہ قادیان میں ہوتا رہا۔پھر جب 1947ء میں قادیان سے ہجرت کر کے پاکستان آئے تو ربوہ میں جلسہ سالانہ منعقد ہونا شروع ہوا۔1983 ء تک ربوہ میں جلسہ سالانہ اپنی پوری شان کے ساتھ منعقد ہوتا رہا اور ہر سال زائرین کی تعداد بڑھتی گئی۔ہجرت کے بعد قادیان میں بھی جلسہ سالانہ با قاعدگی سے منعقد ہوتا رہا گو اس کی مقررہ تاریخوں کی بجائے 18-19-20 دسمبر کو منعقد کیا جاتا تھا تا کہ بیرون پاکستان سے آنے والے دونوں جگہ شامل ہوا کریں لیکن گزشتہ سال سے حضرت امام جماعت احمدیہ نے فیصلہ فرمایا کہ انہی تاریخوں میں ہوا کرے جن میں ہجرت سے پہلے ہوا کرتا تھا یعنی 26-27-28 دسمبر۔جماعت احمدیہ پر حضرت بانی سلسلہ کے جو احسانات ہیں ان میں سے ایک بہت بڑا احسان جلسہ سالانہ کا قیام ہے۔جلسہ سالانہ کے قیام کا بہت بڑا دخل ہے جماعت احمدیہ کے افراد کی تربیت کا۔جس میں مرد بھی شامل ہیں عورتیں بھی اور بچے بھی۔اس کے ذریعہ بہت برکتیں حاصل ہوئیں۔جماعت میں جذبہ اخوت ، اتحاد با ہمی مل کر کام کرنے اور خدمت کا جذبہ لوگوں میں پیدا ہوا۔گزشتہ سالوں میں ربوہ میں جب سے بیرون پاکستان ممالک سے وفود آنے شروع ہوئے جور بوہ کے علاوہ قادیان کے جلسے میں بھی شرکت کرتے تھے ان کا آپس میں گہرا تعلق پیدا ہوا۔عجیب نظارہ نظر آتا تھا کوئی شمال کا رہنے والا ، کوئی جنوب کا ، کوئی مشرق کا تو کوئی مغرب کا۔کوئی براعظم امریکہ سے سفر کر کے پہنچتا تھا، تو کوئی عرب ممالک سے ، کوئی چین سے تو کوئی جاپان سے کوئی جزائر سے ، تو کوئی افریقن ممالک سے مگر جذ بہ سب کا ایک ہوتا تھا کہ محض رضائے الہی کے لئے یہ سفر اختیار کیا ہے۔اس سرزمین پر آ کر اپنے امام کا خطاب سننے