خطابات مریم (جلد دوم) — Page 914
خطابات مریم 914 زریں نصائح آیت کی تشریح کو لے کر نصیحت فرمائی کہ انسان کو ہر وقت یہ پیش نظر رکھنا چاہئے کہ اس نے آخرت کے لیے کیا سامان کیا ہے اور اپنے لیے کیا زاد راہ تیار کیا ہے۔اس لیے عبادت الہی کی طرف خاص توجہ دی جائے اور عبادت بھی صحیح رنگ میں جوانی میں کی جاتی ہے کیونکہ بڑھاپے میں قومی رہ جاتے ہیں تو عبادت صحیح رنگ میں نہیں کی جاسکتی۔پس ہر احمدی بہن اس چیز کو مدنظر رکھے تو ہماری زندگیاں جنت کا نمونہ بن سکتی ہیں۔پس اللہ تعالیٰ ہمیں تقویٰ کی راہوں پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے۔آمین اس کے علاوہ بچوں میں بھی شروع سے تقویٰ پر قائم رہنے اور دین کی باتوں پر چلنے کی تلقین کرتی رہا کریں۔تا کہ ان کی تربیت صحیح رنگ میں ہو سکے۔والتهم سئو 14 / جون 1983 ء کو والتھم سٹو کے ایک اجلاس میں سپاسنامہ کے بعد حضرت سیدہ چھوٹی آپا صاحبہ نے خطاب فرمایا آپ نے سورۃ توبہ کے رکوع نمبر 9 کی آیات تلاوت فرمائیں اور ان کا ترجمہ بھی بتایا۔آپ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے قربانیوں کا ایک معیار قرآن مجید میں مقرر فرمایا ہے اور سورۃ تو بہ میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اے نبی تو مومنوں سے کہہ دے کہ تمہارے باپ دادے، تمہارے بیٹے ، تمہارے خاوند ، جو مال کماتے ہیں وہ مال خدا کے رستہ میں جہاد کرنے کی نسبت تمہیں زیادہ پسند ہیں تو تم انتظار کرو۔یہاں تک کہ خدا تعالیٰ اپنے فیصلہ کو ظاہر کر دے یہ وہ معیار ہے جس پر آپ کی قربانیاں پر کھی جائیں گی۔آپ نے وضاحت کرتے ہوئے فرمایا کہ اسلام کا مطلب ہی یہ ہے کہ آئندہ وہ ہر بات پر خدا اور اس کے رسول کو افضل سمجھے گا۔ہر نیک کام کے لیے ہمہ تن گوش رہے گا اور پھر اسی طرح ہر احمدی جب بیعت کرتا ہے تو یہ عہد کرتا ہے کہ ہر کام میں مکمل اطاعت کرے گا۔آپ نے بچیوں کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا کہ بچے اپنے ماں باپ اور بڑوں کا کہنا اس لیے مانتے ہیں کہ وہ ہمیشہ ان کی بھلائی چاہتے ہیں اور ہمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تو ساری انسانیت کی بھلائی کے لیے آئے تھے۔