خطابات مریم (جلد دوم)

by Other Authors

Page 911 of 988

خطابات مریم (جلد دوم) — Page 911

خطابات مریم 911 زریں نصائح کرنے کی غرض یہ ہے کہ یہ کتاب انسان کو اندھیرے سے نکال کر روشنی کی طرف لے جاتی ہے اور روشنی کا راستہ وہ ہے جو ہمارے رب کا راستہ ہے اسی طرح جب ہم تاریخ اسلام پر نظر ڈالتے ہیں تو بڑی واضح بات یہ نظر آتی ہے کہ بیشک مسلمان قرآن کریم پر عمل کرتے رہے وہ دنیا کے لیے ایک نمونہ بنے رہے۔کیونکہ اسلام ایک مکمل ضابطہ حیات ہے ایک دستور زندگی اور ایک ایسا طریق جس پر عمل کر کے ہماری زندگی سنور سکتی ہے۔پس اس ضمن میں ہمیں خاص طور پر قرآن کریم اور اس کا ترجمہ پڑھنے کی طرف خاص توجہ دینی چاہئے۔کیونکہ اس دوڑ میں جو پیچھے رہ جائے گا اس کے لیے آگے ترقی کا اور کوئی راستہ نہ ہوگا کیونکہ قرآن کریم کی تعلیم کے بغیر کوئی انسان روحانی ترقی نہیں کر سکتا۔مسلمانوں نے جب تک قرآن سے وابستگی رکھی انہوں نے دنیا میں بہت جگہ حکومت کی لیکن جب قرآن کو پس پشت ڈال دیا وہ تنزل میں گر گئے۔چنانچہ اللہ تعالیٰ نے اپنے وعدوں کے مطابق حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو دنیا میں بھیجا کہ آپ پھر سے اسلام کی حکومت کو قائم کریں اور اسلام کو زندہ کر کے شریعت محمدی کو دنیا کے کونوں میں پھیلا دیں۔پس اگر آپ اللہ تعالیٰ کی محبت حاصل کرنا چاہتی ہیں تو اپنے نفوس کا جائزہ لیں اپنی کمزوریوں کو ختم کریں اور عزم کے ساتھ احکام خداوندی پر عمل کریں تا کہ احمدیت کی ترقی میں ہمارا نمایاں حصہ ہو۔آمین حلقہ ساؤتھ فیلڈ 11 جون کو حلقہ ساؤتھ فیلڈ میں تشریف لائیں چونکہ رمضان کا مہینہ تھا اس لیے افطاری کا پروگرام رکھا گیا تھا۔حلقہ کی طرف سے ایڈریس پیش کیے جانے کے بعد آپ نے خطاب فرمایا۔چونکہ یہ ماہ رمضان ہے اس لیے اس وقت میں سورۃ اخلاص کی تشریح آپ کے سامنے پیش کروں گی۔چنانچہ آپ نے سورۃ اخلاص کی تلاوت کے بعد اس کا ترجمہ بیان کیا اور پھر تشریح بیان کرتے ہوئے فرمایا کہ یہ سورۃ اپنے معانی کے لحاظ سے قرآن مجید کا ثلث ہے کیونکہ اس میں سب سے اہم چیز تو حید بیان کی گئی ہے جیسا کہ اس کے معانی میں بتایا گیا ہے کہ اللہ ایک ہے۔