خطابات مریم (جلد دوم)

by Other Authors

Page 910 of 988

خطابات مریم (جلد دوم) — Page 910

خطابات مریم 910 زریں نصائح حلقہ کنگسٹن 9 جون 1983ء حلقہ کی رپورٹ پیش کرنے کے بعد آپ نے اپنے خطاب میں فرمایا کہ جس محبت اور خلوص سے آپ نے مجھے اپنے حلقہ میں بلایا ہے۔مجھے اس کی بڑی خوشی ہے آپ نے مزید فرمایا کہ میں جس عہدے پر ہوں جس کا ذکر محترمہ ناصرہ ندیم صاحبہ نے اپنی نظم میں کیا ہے میں اپنے آپ کو اتنا اونچا نہیں سمجھتی اور نہ ہی مجھ میں اس عہدے کو سنبھالنے کی ہمت تھی۔یہ سب حضرت خلیفہ اسیح الثانی کی کوششوں کا نتیجہ ہے انہوں نے ہی مجھے یہ سب کام سکھایا۔آپ نے قرآن کریم کی ایک آیت کا ترجمہ کرتے ہوئے فرما یا اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اے مومنو! کیا میں تمہیں ایسی تجارت نہ بتاؤں جو تمہیں عذاب الیم سے نجات دلائے۔پس اس تجارت سے مراد قربانی ہے یہ قربانی کئی قسم کی ہوتی ہے جن میں جان کی قربانی ، وقت کی قربانی ، مال کی قربانی اور اولاد کی قربانی شامل ہے۔انہی قربانیوں سے اسلام پھیلے گا۔آپ نے فرمایا کہ ہمارے پیش نظر ہمیشہ ہر وقت آنحضرت کا اسوہ حسنہ ہونا چاہئے کیونکہ قرآن پاک میں سے جو احکام بتائے گئے حضرت محمد مصطفے صلی اللہ علیہ وسلم نے ان پر خود عمل کر کے دنیا کے سامنے ایک مثال قائم کر دی۔قرآن کریم میں 700 احکامات ہیں جن پر عمل کرنا ہمارا فرض ہے۔خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ جس نے ایک حکم کی بھی نافرمانی کی اس پر جنت کا دروازہ بند ہو جاتا ہے ہم نہ جانے دن میں کتنے احکام توڑتے ہیں اور یہ اس وجہ سے بھی ہے کہ ہمیں قرآن پاک کا ترجمہ نہیں آتا پس ہمیں اس کی طرف خاص توجہ کرنی چاہئے اور اپنی زندگیاں اس کے مطابق ڈھالنے کی کوشش کریں تا کہ ساری دنیا میں اسلام پھیل جائے اور سب کی زبان پر ایک ہی کلمہ ہو اور وہ لا اله الا الله محمد رسول اللہ ہو۔حلقہ ہڈرزفیلڈ 10 جون 1983ء ہڈرز فیلڈ میں تشریف لائیں تلاوت اور نظم کے بعد درج ذیل خطاب فرمایا۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ یہ کتاب یعنی قرآن کریم ہم نے نازل کی ہے اور اس کے نازل