خطابات مریم (جلد دوم) — Page 908
خطابات مریم 908 زریں نصائح كُنتُمْ خَيْرَ أُمَّةٍ أُخْرِجَتْ لِلنَّاسِ تَأْمُرُونَ بِالْمَعْرُوفِ وَتَنْهَوْنَ عَنِ الْمُنْكَرِ کہ تم لوگوں کے لیے بہترین امت قرار دیئے گئے ہو ہر وہ چیز جس میں کسی قسم کی تکلیف کا پہلونہ ہوا سے خیر کہتے ہیں۔پس ہر احمدی مسلمان کو مجسم خیر ہونا چاہئے اسلام نے بچے مسلمان کی تعریف۔المُسْلِمُ مَنْ سَلِمَ المُسْلِمُونَ مِنْ لِسانِهِ وَيَدِهِ کہہ کر کی ہے۔سچا مسلمان وہ ہے جس کے زبان اور ہاتھ سے دوسرا مسلمان محفوظ رہے۔اس میں دو باتوں کی طرف نشاندہی کی گئی ہے ایک تو داعی الی الخیر بننا اور دوسرے برائی سے روکنا۔پس برائیوں کا قلع قمع کرنا اور مجسم خیر اور مجسم خیر و برکت بن جانا ایک احمدی خاتون کا فرض ہے اور اسی کی تربیت ہونی چاہئے کہ آپ کے وجود سے خیر و برکت کے چشمے نکلیں۔آپ سب کو چاہئے کہ آپ اسلامی تاریخ سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی سے آپ کے اخلاق سے آگاہی حاصل کریں آپ اس وقت تک عمل نہیں کر سکتیں جب تک صحیح آگا ہی نہ ہو، اپنی دینی تعلیم بہتر کریں اور اپنی بچیوں کو بھی اس طرف متوجہ کریں کیونکہ اگر ایک نسل میں کمزوری آجائے تو قربانیوں کا تسلسل قائم نہیں رہتا۔اب پھر اللہ تعالیٰ کے فضل سے اسلام کے چمن میں بہار آنے والی ہے بلکہ آثار نمودار ہو چکے ہیں جس کی ایک مثال سپین کی مسجد کے افتتاح کی صورت میں نمودار ہوئی ہے۔کیا یہ ایک دلیل اس بات کے لیے کافی نہیں کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی بشارتیں اپنے وقت پر ضرور پوری ہونگی لیکن اگر کوششوں میں ہمارا دخل نہیں ہوگا تو ہم بہت بد قسمت ہونگے۔اپنی اصلاح کریں اپنی اولادوں کے دل میں خدا اور اس کے رسول کی محبت پیدا کر دیں۔ان کے دل میں یہ احساس پیدا کر دیں کہ ہم دوسروں سے مختلف ہیں ہم نے صرف اسلام کے لیے مرنا جینا ہے۔اگر یہ چیزیں سامنے رکھ کر پروگرام بنا ئیں تو یقینا اللہ کا فضل آپ کے شامل حال ہو گا۔اسلام کا پیغام دوسروں تک پہنچانا صرف صدر اور سیکرٹری کا کام نہیں آپ کو اپنے فرائض سمجھنے چاہئیں۔آپ کا سب سے بڑا فرض اسلام کی تبلیغ ہے اس کے لیے ہمیشہ مد نظر رکھیں کہ آپ کے قول اور فعل میں تضاد نہ ہو آپ خود اپنا نمونہ پیش کریں۔حضور ایدہ اللہ تعالیٰ نے پردہ کے متعلق خاص طور پر ہدایت فرمائی ہے بہت سی عورتیں جو