خطابات مریم (جلد دوم) — Page 892
خطابات مریم 892 زریں نصائح تک عمل کا ارادہ نہ کیا جائے اس وقت تک ان تقریروں کا کچھ فائدہ نہ ہوگا۔آئندہ قوم کی تربیت مائیں ہی کر سکتی ہیں جب تک ماؤں کے اندر یہ جذ بہ وعزم نہ ہو کہ ہم اسلام واحمدیت کی خاطر اپنی جان، مال، اولا د اور وقت کی قربانی کریں گی اس وقت تک ہم اپنے بچوں کی صحیح تربیت نہیں کر سکتیں۔آپ نے فرمایا:۔اگر آپ چاہتی ہیں کہ حضرت اقدس کی پیشگوئیاں پوری ہوں اور اسلام ترقی کرے تو اپنے خلفاء کے نقش قدم پر چلنے کی کوشش کرو۔اس دور میں جب کہ دنیا مادہ پرستی کی طرف لوگوں کو بھینچتی چلی آ رہی ہے اور شیطان کا غلبہ ہے ہمیں چاہئے کہ ہم خود دنیا والوں کو اپنے اعمال واخلاق سے اپنی طرف کھینچیں تا کہ خدا اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا اس دنیا میں بول بالا ہو۔ہم اجلاس میں عہد اس لئے دُہراتے ہیں کہ ہم اپنا سب کچھ خدا اور اس کے رسول کی خاطر قربان کر دیں۔اس لئے ہمارے قدم دین کی راہ میں کبھی بھی پیچھے نہیں ہٹنے چاہئیں۔پس بہت ضرورت ہے کہ اپنے بچوں کے اندر دین کا جذبہ اور شوق پیدا کریں۔اصل تعلیم قرآن ہے۔بڑے افسوس کی بات ہے کہ ہماری لڑکیوں کو یہ نہیں پتہ کہ قرآن کی تعلیم کیا ہے۔حضور فرماتے ہیں :۔” جو شخص قرآن کے سات سو حکم میں سے ایک چھوٹے سے حکم کو بھی ٹالتا ہے وہ نجات کا دروازہ اپنے ہاتھ سے اپنے پر بند کرتا ہے۔(روحانی خزائن جلد 19 کشتی نوح صفحه 26) ہمیں حضرت اقدس کی کتب کا مطالعہ کثرت سے کرنا چاہئے۔اتنے خزانے بھرے ہوئے ہیں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی کتب میں کہ اگر ہم ان پر عمل کریں تو احمدیت ترقی کر سکتی ہے اگر لجنہ کی عہدیدار اور ہم سب یہی کوشش کریں تو بہت جلدا سلام کو ترقی کرتے ہوئے ہم دیکھیں گے۔بعد ازاں آپ نے فرمایا خدا تعالیٰ ہم سب کو اپنے خلفاء کے نقش قدم پر چلنے کی توفیق دے اور اپنی رضا کی راہوں پر چلائے۔(الفضل 22 / مارچ 1981ء)