خطابات مریم (جلد دوم)

by Other Authors

Page 65 of 988

خطابات مریم (جلد دوم) — Page 65

خطابات مریم 59 65 تحریرات دیتے پھر اس کو دیکھتے۔کبھی مولوی یعقوب صاحب کو ہی بلا کر لکھواتے۔غرض ان دنوں جو قرآن مجید کا ترجمہ کرنے کی محنت کی اس نے صحت پر بہت بُرا اثر ڈالا۔صحت کی پرواہ نہ کی اور رات دن لگ کر ترجمہ مکمل کیا۔میں تو ایک ذرہ نا چیز ہوں اگر کوئی بھی جماعت کی خدمت میں نے کی تو دراصل اس کا سہرا حضرت فضل عمر ہی کے سر تھا کیونکہ تقریر کرنا، لجنہ کا کام کرنا، ہر بات میں حضور نے میری راہنمائی فرمائی۔ربوہ آنے کے بعد 1951ء میں حضور نوراللہ مرقدہ نے بچیوں کی اعلیٰ تعلیم کے لئے جامعہ نصرت کا اجراء فرمایا۔کوئی عمارت نہیں تھی اپنی کوٹھی کالج کے لئے دی۔فرخندہ بیگم سید محمود اللہ شاہ صاحب کو لاہور ایم اے انگریزی کرنے کیلئے بھجوایا اور مجھے کالج کی ڈائریکٹر لیں مقرر کر کے کہا کہ کالج سنبھا لو۔پہلے دوسال میرے علاوہ کالج میں سب مرد پڑھاتے رہے اور میں عربی پڑھاتی تھی اور کالج کے تمام انتظامی کام بھی کرتی تھی۔دو سال بعد مسز شاہ آگئیں اور آہستہ آہستہ وہ لڑکیاں جنہوں نے جامعہ نصرت سے بی اے کیا ان کو مختلف مضامین میں ایم اے کروایا اور وہ کالج میں لیکچرار لگیں۔روزانہ ہی مجھ سے کالج کی رپورٹ لینی۔ہر بات پر راہنمائی کرنی۔1955 ء میں آپ کی بیماری کے بعد پڑھانا میں نے چھوڑ دیا صرف نگرانی میری رہی۔خود میں نے بھی ایم اے عربی ہجرت کے بعد کیا تھا۔صرف سات ماہ کی پڑھائی کے بعد امتحان دیا۔اس امتحان دینے کا حوصلہ بھی آپ نے مجھ میں پیدا کیا۔1940ء میں میں نے بی اے کیا تھا پڑھائی چھوڑ کر دوبارہ شروع کرنی بہت مشکل ہوتی ہے۔1947ء میں لاہور کے قیام میں لجنہ کے کسی کام کے سلسلہ میں بعض بچیاں ملیں جو ایم اے عربی فائنل کی تھیں۔ان کی کتب دیکھیں تو مجھے بہت آسان لگیں۔میں نے حضرت فضل عمر سے کیا تو آپ فرمانے لگے پھر یہاں لاہور رہتے ہوئے تم بھی امتحان دے دو۔کتب ملتی نہیں تھیں یو نیورسٹی لائبریری سے قاضی محمد اسلم صاحب مرحوم کے ذریعہ سے لے کر ان کی نقلیں کروا ذکر کیا کے دیں اور جہاں سے کوئی بات سمجھ نہ آتی آپ خود سمجھا دیتے۔30 سال کا عرصہ ان کے ساتھ گزارا کہنے کو تو تیس سال تھے لیکن میں تو یہی کہوں گی۔روئے گل سیر نه دیدم که بهار آخر شد حیف در چشم زدن صحبت یار آخر شد