خطابات مریم (جلد دوم)

by Other Authors

Page 862 of 988

خطابات مریم (جلد دوم) — Page 862

خطابات مریم 862 پیغامات کرنے کے لئے تیار ہیں لیکن کیا ہم اپنا جائزہ بھی لیتے ہیں کہ ہم نے جو عہد بیعت کیا تھا اس پر پورا بھی اُتر رہے ہیں یا نہیں۔حضرت مسیح موعود نے جماعت کے لئے دس شرائط بیعت قرار دی تھیں اس وقت میں اُن میں سے صرف چھٹی شرط بیعت کی طرف توجہ دلاتی ہوں جو یہ ہے۔یہ کہ اتباع رسم اور متابعت ہوا و ہوس سے باز آ جائے گا اور قرآن شریف کی حکومت کو بکلی اپنے سر پر قبول کرے گا اور قال اللہ وقال الرسول کو اپنی ہر ایک راہ میں دستور العمل قرار دے گا۔اشتہار تکمیل تبلیغ 12 جنوری 1889ء) اگر ہر احمدی عورت صرف اس شق پر بھی عمل کرنے لگ جائے تو اس کی پوری زندگی سنور سکتی ہے۔اس شرط کا خلاصہ یہ ہے کہ ہماری زندگیاں قرآن مجید کی تعلیم کے عین مطابق اور محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ہدایات اور نمونہ کے مطابق گزریں۔اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں فرمایا ہے لَقَدْ كَانَ لَكُمْ فِي رَسُولِ اللَّهِ أَسْوَةٌ حَسَنَةٌ تمہارے لئے محمد رسول اللہ کی زندگی ایک نمونہ ہے اس کے مطابق چلو۔اسی بات کی طرف حضرت عائشہ کا ایک قول بھی توجہ دلاتا ہے۔کسی نے حضرت عائشہ سے پوچھا ہمیں محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اخلاق کے متعلق کچھ بتا ئیں۔آپ نے ایک چھوٹے سے فقرہ میں جواب دیا اور وہ چھوٹا سا فقرہ اپنے اندر علوم و نصائح کا ایک سمندر رکھتا ہے۔آپ نے فرمایا کسان خُلُقُهُ القرآن۔آپ کے اخلاق قرآن ہی تو تھے۔یعنی جو قرآن میں لکھا ہے ان پر آپ نے عمل کر کے دکھا دیا۔آپ کے نمونہ اور قرآن مجید کی تعلیم میں کوئی فرق کوئی تضاد نہ تھا۔جس طرح کسی حکومت میں رہتے ہوئے انسان اس حکومت کے قانون کی خلاف ورزی نہیں کر سکتا اور اگر قانون کو توڑے تو اُسے سزا ملتی ہے ایک احمدی کے لئے لازمی قرار دیا گیا ہے کہ قرآن شریف کی حکومت کو اپنے لئے قبول کرے یعنی قرآن مجید میں جتنے احکام ہیں ان پر عمل کرے اور جن باتوں سے منع کیا گیا ہے ان سے رُک جائے۔