خطابات مریم (جلد دوم) — Page 859
خطابات مریم 859 پیغامات بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ نَحْمَدُهُ وَ نُصَلِّي عَلَى رَسُولِهِ الْكَرِيمِ میری عزیز بہنو ! السَّلامُ عَلَيْكُمْ وَرَحْمَةُ اللهِ وَبَرَكاتُه آپ کا سالانہ اجتماع آج 13 / مارچ کو منعقد ہو رہا ہے آپ کی صدر صاحبہ نے خواہش کی ہے کہ اس موقعہ پر پیغام کے ذریعہ آپ کے اجتماع میں شرکت کروں۔میری بہنو! میرا پیغام آپ سب کے لئے یہ ہے کہ خلافت کے دامن کو مضبوطی سے تھامے رکھو اسی میں آپ کی زندگی ہے۔13 / مارچ کا دن سلسلہ احمدیہ کی تاریخ میں بڑا اہم دن ہے۔13 / مارچ 1914 ء کو حضرت مولانا نورالدین صاحب جو حضرت مسیح موعود کے پہلے خلیفہ تھے کی وفات ہوئی اور اس دن کھل کر ایک سازش سامنے آئی جو اپنی پوری طاقت سے خلافت کو ختم کرنا چاہتی تھی۔منکرین خلافت نے پوری کوشش کی کہ کسی طرح خلیفہ کا انتخاب نہ ہولیکن حضرت مرزا بشیر الدین محمود احمد صاحب نے کہا کہ جب حضرت مسیح موعود کے بعد خلیفہ کا فوری انتخاب ہوا تھا تو اب کیوں نہ ہو۔آخر جماعت کی بھاری اکثریت نے 14 مارچ 1914ء کو حضرت مرزا بشیر الدین محمود احمد صاحب کو خلیفہ اسیح الثانی منتخب کر کے آپ کے ہاتھ پر بیعت کر لی۔حضرت خلیفہ المسیح الثانی اس یقین پر قائم تھے کہ خلافت کے بغیر کوئی ترقی نہیں ہو سکتی آپ نے خلیفہ بنتے ہی وہ تدابیر اختیار کیں کہ آئندہ اس قسم کے فتنے جماعت میں پیدا نہ ہوں تقریروں کے ذریعہ تحریر کے ذریعہ خلافت کی اہمیت جماعت پر واضح کی خلافت کی برکات بتا ئیں جو کوششیں استحکام خلافت کے لئے آپ نے فرما ئیں وہ ایک زریں باب ہے تاریخ احمدیت کا۔آپ نے خدام الاحمدیہ کے سالانہ اجتماع 1959ء کے موقع پر جماعت کے افراد کو کھڑا کر کے عہد بھی لیا تھا کہ :۔ہم نظام خلافت کی حفاظت اور اس کے استحکام کے لئے آخری دم تک جد و جہد کرتے رہیں گے اور اپنی اولاد در اولا د کو ہمیشہ خلافت سے وابستہ رہنے اور اس کی