خطابات مریم (جلد دوم)

by Other Authors

Page 63 of 988

خطابات مریم (جلد دوم) — Page 63

خطابات مریم 63 تحریرات ہر لحظہ کارواں ہوا جاتا ہے دُور دُور حسرت سے تک رہی ہوں پڑی راہ گزر کو میں یا نوچ ڈال پر مرے یا کھول دے قفس قید قفس میں کیا کروں گی بال و پر کو میں گرمیوں میں ڈلہوزی جاتے تو اکثر قرآن مجید کا درس دیتے جس میں گھر والے بھی شامل ہوتے اور دوسرے لوگ بھی۔مجھے بھی تاکید کرتے رہتے کہ بچوں کو عربی پڑھایا کرو۔سب سے کرو۔سب پہلے آپ نے کہا کہ قصیدہ یاد کرو اس وقت مجھے بھی یاد نہیں تھا چنانچہ خود ہی ساتھ ساتھ یاد کیا اور امتہ الحکیم ، امتہ الباسط اور امتہ النصیر کو یاد کروایا۔عربی صرف و نحو بھی گھر میں ہم سب کو پڑھاتے رہے ہیں اور یہ حقیقت ہے کہ آپ سے صرف و نحو پڑھ کر پہلی دفعہ احساس ہوا کہ یہ تو مشکل مضمون ہی نہیں۔قادیان میں درس القرآن سورہ کہف سے شروع کیا اصل غرض مجھے اور بچوں کو پڑھانا تھا۔اس درس میں صاحبزادہ مرزا مبارک ،احمد صاحبزادہ مرزا منور احمد اور صاحبزادی امۃ القیوم ابتداء میں شامل ہوئے پھر آہستہ آہستہ اور گھر والوں نے شامل ہونا شروع کیا۔جب لوگوں کو علم ہوا کہ حضور گھر میں درس دے رہے ہیں تو درخواستیں آنی شروع ہو گئیں کہ باہر بیت الذکر میں درس دیا کریں تا ہم بھی سنا کریں اس طرح آہستہ آہستہ درس بیت مبارک قادیان کے ساتھ والے کمرہ میں دیا جانے لگا اندر ہم ہوتے تھے اور باہر مرد بھی سن لیتے تھے۔ماں سے محبت تو اولا د کو ہوتی ہی ہے لیکن جیسی محبت حضرت فضل عمر کو حضرت اماں جان سے تھی اس کی مثال ملنی مشکل ہے۔آپ کی ہر ضرورت کا خیال رکھتے۔ہر خواہش پوری کرنے کی کوشش کرتے اور بیویوں سے بھی یہی امید رکھتے کہ حضرت اماں جان کی جتنی ممکن ہو خدمت کریں گی۔بہنوں اور بھائیوں سے بھی بہت محبت تھی۔حضرت نواب مبارکہ بیگم صاحبہ سے سب بہن بھائیوں سے زیادہ بے تکلفی تھی۔جب آپ مالیر کوٹلہ سے قادیان آتیں تو بہت کوشش کر کے ان کے لئے وقت نکالتے۔بہت سے سفروں میں ساتھ دیا ہے۔حیدر آباد دکن اور دہلی کا وہ سفر جو 1938ء میں کیا اور جس میں آپ نے تعلق کے قلعہ پر کھڑے ہو کر کہا تھا ” میں نے