خطابات مریم (جلد دوم) — Page 62
خطابات مریم 62 29 تحریرات تھا۔میں نے حضور سے ذکر کیا تو کہنے لگے کیا حرج ہے۔پڑھ دینا۔میں نے کہا کونسی کہنے لگے میں لکھ دیتا ہوں میں نے کہا نہیں اگر اپنی ہوتی تو پڑھ دیتی فرمایا۔کیوں۔حضرت بانی سلسلہ عالیہ احمدیہ نے بزبان حضرت اماں جان نظم نہیں کہی ہوئی۔خیر آپ نے ایک غزل کہی اور صاحبزادی امتہ الباسط نے وہ غزل عورتوں کے مشاعرہ میں خوش الحانی سے پڑھ کر سنائی۔وہ غزل حضور کے اپنے ہاتھ کی لکھی ہوئی میرے پاس محفوظ ہے۔ناصحانہ نظم تھی اور بہت پسند کی گئی۔نظم یہ تھی۔کیسے بچاؤں نوح کے طوفاں سے گھر کو میں رکتی نہیں ہے کیا کروں اس چشم تر کو میں مسجد کو چھوڑ ٹا کی کی جانب رواں ہوئی جانا تھا کس طرف کو چلی ہوں کدھر کو میں ہے وقف روئے غیر نظر تیری اے خدا ترسی ہوں سال سال تیری اک نظر کو میں جس سے بہار خانہ تھی جب وہ نہیں رہا اس کے بغیر کیا کروں دیوار و در کو میں روئے سحر ہی جب نہ نظر آئے اے ندیم پھر کیا کروں بتا تو نسیم سحر کو میں رہبر بھی مصطفی مرے دلبر بھی مصطفی جاتے تھے وہ جدھر کو چلوں گی اُدھر کو میں راہِ وفا میں موت سے ڈرنا خدا بچائے ملتی ہوں اپنے ہاتھ سے اپنے جگر کو میں ہے میری آبرو تیرے ہاتھوں میں اے خدا رکھتی ہوں تیرے پاؤں پہ لے اپنے سر کو میں