خطابات مریم (جلد دوم)

by Other Authors

Page 846 of 988

خطابات مریم (جلد دوم) — Page 846

خطابات مریم 846 پیغامات ط ذُنُوبَكُمْ وَاللهُ غَفُورٌ رَّحِيمٌ (آل عمران : 32) ترجمہ : ( اللہ تعالٰی محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے مخاطب ہوتے ہوئے فرماتا ہے کہ ) تو کہہ کہ (اے لوگو ) اگر تم اللہ سے محبت رکھتے ہو تو میری اتباع کرو (اس صورت میں ) وہ ( بھی ) تم سے محبت کرے گا اور تمہارے قصور بخش دے گا اور اللہ بہت بخشنے والا اور بار بار رحم کرنے والا ہے۔گویا اللہ تعالیٰ کی محبت نہیں ہو سکتی جب تک آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے قدم بقدم نہ چلا جائے۔آپ کے ارشادات کی پیروی نہ کی جائے اور وہ اخلاق اپنے اندر نہ پیدا کئے جائیں جو آپ میں پائے جاتے تھے اور آپ کے نمونہ کو اختیار نہ کیا جائے۔پس میری بہنو ہمیں دیکھنا ہے کہ ہماری زندگیاں کس طرح گزر رہی ہیں۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی کس حد تک ہم پیروی کرتی ہیں۔یہ نہیں کہ دعوی تو اللہ تعالیٰ سے محبت کا کرتے ہیں مگر ہمارا عمل اس کے خلاف ہو نہ وہ اخلاق ہم میں پائے جاتے ہوں جن کا اپنے میں پیدا کرنے کا قرآن کریم میں ذکر ہے اور جس کا نمونہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے دنیا کو دکھایا یہی وجہ ہے کہ اسلام اتنی جلدی پھیلا۔پس میری عزیز بہنو ذاتی نمونہ بہت بڑی تبلیغ ہے جو دوسرے کا دل کھینچنے والا ہے۔آپ سب کوشش کریں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت کا مطالعہ کریں آپ کے ارشادات سے واقفیت حاصل کریں اور ان پر عمل کرنے کی پوری کوشش کریں۔اللہ تعالیٰ کے بندوں سے اچھا سلوک کریں ان کے دکھ سکھ میں کام آئیں۔میں اس سلسلہ میں آپ کو سب کو قرآن مجید کا ترجمہ سیکھنے کی طرف بھی توجہ دلاتی ہوں۔قرآن مجید وہ کامل ضابطہ حیات ہے جو اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو اپنی زندگیاں سنوار نے کے لئے عطا فرمایا ہے۔ایک مکمل ہدایت نامہ ہے ہمیشہ کے لئے ہے ہر قوم کے لئے ہے۔جب تک مسلمانوں کا قرآن مجید پر عمل رہا وہ دنیا میں غالب رہے جب اُنہوں نے قرآن پر عمل چھوڑ دیا تو مسلمانوں کا جو حال ہے وہ تاریخ کی ایک المناک داستان ہے۔اللہ تعالیٰ نے اس زمانہ میں حضرت مہدی علیہ السلام کو بھیجاتا آپ قرآن سکھائیں اور یہی آپ کی جماعت کا کام ہے۔قرآن پڑھے بغیر ہمیں علم ہی نہیں ہو سکتا کہ کن کاموں سے کرنے کا اللہ تعالیٰ نے حکم دیا ہے کن باتوں سے منع فرمایا ہے۔کون سی وہ وجوہات تھیں جن کی وجہ سے پہلی قوموں پر عذاب آیا اور