خطابات مریم (جلد دوم)

by Other Authors

Page 844 of 988

خطابات مریم (جلد دوم) — Page 844

خطابات مریم 844 پیغامات پیغام برائے مرکزی سالانہ اجتماع لجنہ اماءاللہ بھارت 1991ء بِسمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ مکرمہ صدر صاحبه لجنہ اماءاللہ بھارت و حاضرات جلسہ السَّلامُ عَلَيْكُمْ وَرَحْمَةُ اللهِ وَبَرَكاتُه مکرمہ صدر صاحبه لجنہ بھارت نے خواہش ظاہر کی کہ میں آپ کے سالانہ اجتماع میں بذریعہ پیغام شرکت کروں سوان کی خواہش کو پورا کرتے ہوئے چند باتیں آپ سے کرنا چاہتی ہوں۔آپ خوش قسمت ہیں کہ آپ کا اجتماع اُس سرزمین پر ہو رہا ہے اور بہت سی آپ میں سے وہاں رہتی بھی ہیں جہاں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی بشارتوں کے مطابق حضرت مہدی علیہ السلام پیدا ہوئے اور جہاں آپ نے اپنی ساری زندگی گزاری۔آپ فرماتے ہیں :۔انبیاء علیہم السلام کے دنیا میں آنے کی سب سے بڑی غرض اور اُن کی تعلیم اور تبلیغ کا عظیم الشان مقصد یہ ہوتا ہے کہ لوگ خدا تعالیٰ کو شناخت کریں اور اس زندگی سے جو انہیں جہنم اور ہلاکت کی طرف لے جاتی ہے اور جس کو گناہ آلود زندگی کہتے ہیں نجات پائیں حقیقت میں یہی بڑا بھاری مقصد ان کے آگے ہوتا ہے پس اس وقت بھی جوخدا تعالیٰ نے ایک سلسلہ قائم کیا ہے اور اس نے مجھے مبعوث فرمایا ہے تو میرے آنے کی غرض بھی وہی مشترک غرض ہے جو سب نبیوں کی تھی یعنی میں بتانا چاہتا ہوں کہ خدا کیا ہے؟ بلکہ دکھانا چاہتا ہوں اور گناہ سے بچنے کی راہ کی طرف راہبری کرتا ہوں“۔( ملفوظات جلد دوم صفحہ 8-9) حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو جنہوں نے مانا آپ کی صحبت میں رہے۔دنیا نے حیرت سے دیکھا کہ ان کی زندگیوں میں ایک انقلاب آیا جس نے ان کو یکسر بدل کر رکھ دیا۔ان کے دلوں سے دنیا کی محبت مٹ گئی صرف اللہ تعالیٰ کا پیار اور اس کی راہ میں قربانی دینے کا جذبہ رہ