خطابات مریم (جلد دوم) — Page 836
خطابات مریم عزیز بہنو! 836 پیغام برائے جلسہ سالانہ لجنہ اماءاللہ بِسمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ السَّلَامُ عَلَيْكُمْ وَرَحْمَةُ اللهِ وَبَرَكاتُه پیغامات آپ کے جلسہ سالانہ کے موقع پر اس مختصر پیغام کے ذریعہ شمولت کر رہی ہوں۔اللہ تعالیٰ کے فضل سے آپ کے ملک میں جماعت نمایاں ترقی کر رہی ہے اور یا درکھیں جب ترقی ہوتی ہے تو یہ بھی ڈر ہوتا ہے کہ نئے آنے والے اپنی کمزوریاں ساتھ نہ لے آئیں یا پرانے کمزور نئے آنے والوں کو بھی اپنے رنگ میں نہ رنگ لیں اسی لئے اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں سورہ نصر میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو فرمایا ہے۔إِذَا جَاءَ نَصْرُ اللَّهِ وَالْفَتْحُ وَرَأَيْتَ النَّاسَ يَدْخُلُونَ فِي دِينِ اللهِ أَفْوَاجًان فَسَبِّحْ بِحَمْدِ رَبَّكَ وَاسْتَغْفِرْهُ إِنَّهُ كَانَ تَوَّابًان ترجمہ: جب اللہ کی مدد اور کامل غلبہ آ جائے گا اور تو اس بات کے آثار دیکھ لے گا کہ اللہ کے دین میں لوگ فوج در فوج داخل ہو نگے پس اس وقت تو اپنے رب کی تعریف کے ساتھ اس کی پاکیزگی بھی بیان کرنے میں مشغول ہو جائیو اور اس سے اپنی قومی تربیت کی کوتاہیوں پر پردہ ڈالنے کی دعا کیجیو وہ یقیناً اپنے بندے کی طرف رحمت کے ساتھ لوٹ کر آنے والا ہے۔اس سورۃ میں اس مضمون کی طرف اشارہ کیا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی ذات تمام عیوب اور نقائص سے پاک ہے۔وہ اپنے بندوں کو بے یار و مددگار نہیں چھوڑتا اور نہ اپنے وعدوں کی خلاف ورزی کرتا ہے۔پس فَسَبِّحُ بِحَمْدِ رَبِّكَ کے الفاظ میں یہ حکم دیا گیا ہے کہ اے مسلما نو تم اعلان کر دو کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے وعدوں کے مطابق ہماری نصرت کر کے ایک طرف اپنی ذات کو تمام الزامات سے بری ٹھہرا لیا ہے اور دوسری طرف اپنی ذات کو حمد کا مستحق قرار دیا ہے۔اب سوال پیدا ہوتا ہے کہ یہاں استغفار کے کیا معنی ہیں۔پہلی دو آیات میں وعدہ تھا کہ۔