خطابات مریم (جلد دوم)

by Other Authors

Page 61 of 988

خطابات مریم (جلد دوم) — Page 61

خطابات مریم 61 تحریرات ہر رشتہ دار کا حق ادا کیا خواہ وہ اپنا رشتے دار تھا یا بیویوں کا رشتہ دار۔بیویوں کی سہیلیوں کے گھرانوں سے حسن سلوک کیا۔مجھے تعلیم کا شوق تھا شادی ہوئی تو یہ خیال پیدا ہوا کہ بس اب تعلیم ختم ہو جائے گی لیکن حضرت فضل عمر نے میرے شوق کو دیکھتے ہوئے مجھے اجازت دے دی کہ پڑھائی جاری رکھوں بلکہ پڑھائی کا انتظام بھی کیا۔صرف ایک شرط تھی کہ میری پڑھائی میری ذمہ داریوں میں حائل نہ ہوگی اور یہ کہ ایسا نہیں ہو کہ میں آؤں تو تم کتا بیں لے کر بیٹھی ہو۔شعر و شاعری سے بہت دلچسپی تھی اکثر نظمیں آپ نے سفر کے دوران کہی ہیں یا جب قدرے فراغت ہو۔کبھی ایسا ہوتا کہ کسی محاورہ کے متعلق آپ کو شک ہو تو مجھے کہنا ابھی لغت نکالو اور دیکھو یا کہنا حضرت اماں جان کے پاس جاؤ اور ان سے پوچھو کہ کیا یہ محاورہ اس طرح بولا جاتا ہے۔چونکہ میں تیز لکھتی تھی آپ نے ابتدا سے ہی مجھ سے لکھوانے کا کام لینا شروع کیا خط لکھوائے جلسہ سالانہ کی تقاریر کے نوٹ لکھوائے۔تفسیر کبیر اور تفسیر صغیر کی املا کروائی لکھوا کے پھر مولانا محمد یعقوب صاحب کو صاف کرنے کیلئے دیا کرتے تھے۔اسی طرح کلید القرآن سے آیات قرآنیہ نکلوانی اور یہ سب خود سکھا یا ور نہ اس سے پہلے مجھے کچھ نہیں آتا تھا۔متین چھوٹی سی تھی تو اُسے ایک نظم لکھ کر دی اور کہا اسے یاد کر کے سناؤ جو کچھ اس طرح تھی۔چوں چوں کرتی چڑیا چونچ میں اپنی آئی تنکا لائی پھر ایک اور نظم طوطے پر لکھ کر دی جو میں نے تفخیذ الا ذہان میں چند سال ہوئے چھپوا دی تھی۔جب اور بڑی ہوئی تو اللہ تعالیٰ کے متعلق نظم لکھ کر دی جو کلام محمود میں اطفال کے ترانہ کے نام سے شائع ہوئی ہے۔1948ء میں جب ہجرت کے بعد ہم کچھ عرصہ لاہور رہے مسلم لیگ کی خواتین بھی آبادکاری اور عورتوں کے مسائل حل کرنے میں لگی ہوئی تھیں۔بیگم تصدق حسین ، بیگم شاہنواز وغیرہ کئی دفعہ ملنے آئیں اور اپنی کئی تقریبات میں ہمیں بلایا۔اسی سلسلہ میں ایک مشاعرہ ہوا، دعوت نامہ لے کر آئیں اور بہت خواہش کی کہ آپ میں سے کوئی نظم بھی پڑھے طرحی مشاعرہ