خطابات مریم (جلد دوم) — Page 785
خطابات مریم 785 پیغامات پیغام برائے سالانہ اجتماع لجنہ اماءاللہ فرانس 1988 پیاری بہنو ! بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ السَّلامُ عَلَيْكُمْ وَرَحْمَةُ اللهِ وَبَرَكاتُه آپ کے اجتماع میں اس مختصر پیغام کے ذریعہ شرکت کر رہی ہوں۔قادیان میں ہجرت سے قبل جب حضرت خلیفۃ المسیح الثانی نے مبلغین کی ایک ٹیم بیرونی ممالک میں بھجوائی تو ملک عطا الرحمان صاحب کو فرانس میں متعین کیا اس وقت سارے فرانس میں کوئی احمدی نہ تھا۔عاجزہ نے تمام مبلغین کو لجنہ کے قواعد بھجوا دیئے انہوں نے مجھے کہا کہ میں نے ایک فائل لجنہ کا بنا کر دفتر میں رکھ دیا ہے اس دعا کے ساتھ کہ جلد جماعت بڑھے اور لجنہ بھی قائم ہو۔اللہ تعالیٰ کے فضل سے وہ وقت آچکا ہے کہ وہاں جماعت بھی قائم ہو چکی ہے اور لجنہ اماءاللہ بھی قائم ہوگئی ہے اور مشن ہاؤس بھی خریدا جا چکا ہے۔الحمد للہ علی ذلک۔بے شک اس وقت ایک چھوٹی سے جماعت ہے لیکن یاد رکھیں ہر بڑے کام کی ابتدا ایک بیج سے ہوتی ہے ،مٹی میں بیج ڈالا جاتا ہے، پانی دیتے پودا نکلتا ہے، لگانے والا ڈرتا ہے کہ کوئی جانور نہ کھالے کوئی پودے کو پاؤں تلے نہ مسل دے، وہ اس کی حفاظت کرتا ہے یہاں تک کہ وہ اپنی جڑ پر قائم ہو جاتا ہے اور مضبوط ہوتا چلا جاتا ہے۔یہاں تک کہ تناور درخت بن جاتا ہے۔یہی طریق ایسی جماعتوں کا ہوتا ہے۔ابتدا میں دشمن سمجھتے ہیں کہ چند دن کی بات ہے مسل کر رکھ دیں گے لیکن خدائی نصرت ان کے پیچھے ہوتی ہے۔وہ بڑھتے چلے جاتے ہیں اللہ کے فضل سے اگلے سال جماعت احمد یہ کے قیام پر ایک سو سال ہو جائیں گے۔اس لئے اس خوشی کو منانے کے لئے بہت ضروری ہے کہ ہم روحانی طور پر بھی مضبوط ہوں اللہ تعالیٰ سے ہمارا تعلق ہو اس کا پیار ہمیں حاصل ہو۔اس لئے اپنی اور اپنے بچوں کی تربیت کا بہت خیال رکھیں تقویٰ اختیار کریں۔اگر ہم نے اپنی اولاد کی اخلاقی لحاظ سے اور دینی لحاظ سے تربیت نہ کی تو وہ آئندہ پڑنے والی ذمہ داریوں کو اُٹھا نہیں