خطابات مریم (جلد دوم) — Page 780
خطابات مریم 780 پیغامات 66 لَئِنْ شَكَرْتُمْ لَا زِيدَنَّكُم اگر تم شکر ادا کرو گے تو میں تمہیں اور زیادہ دوں گا۔شکر صرف زبان سے شکر ہے کہنے کا نام نہیں۔شکر کے آثار ہمارے جسم سے ، ہمارے عمل سے، ہمارے ہر کام سے ظاہر ہونے چاہئیں اور وہ اس طرح کہ ہم پہلے سے زیادہ اللہ تعالیٰ کی فرمانبرداری اختیار کریں اس کے احکام پر چلیں جن باتوں سے اُس نے منع فرمایا ہے اُن کے قریب بھی نہ جائیں۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے اُسوہ حسنہ پر چلیں کہ اللہ تعالیٰ نے ہی آپ کو دنیا کے لئے اُسوہ حسنہ قرار دیا ہے۔اللہ تعالیٰ نے ہی اپنا یہ اصول دنیا کو بتایا ہے۔قُلْ إِنْ كُنتُمْ تُحِبُّونَ اللهَ فَاتَّبِعُونِي يُحْبِبْكُمُ الله کہ اے محمد رسول اللہ ! آپ دنیا کو بتادیں کہ اگر تم اللہ سے محبت کرتے ہو، چاہتے ہو کہ خدا بھی تم سے محبت کرے، اس کا صرف ایک ہی طریقہ ہے کہ میری پیروی کرو۔میرے پیچھے پیچھے چلو۔میری راہ اختیار کرو۔اس کے نتیجہ میں اللہ بھی تم سے محبت کرے گا۔گویا ہمیشہ کے لئے اللہ تعالیٰ نے اطاعتِ رسول کو اپنی محبت کا سب سے بڑا ذریعہ قرار دے دیا ہے۔میری بہنو! نئی صدی ہمارے لئے بہت بڑی ذمہ داریاں لا رہی ہے۔جہاں آپ اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کریں وہاں یہ جائزہ بھی لیں کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام جیسا انسان ہمیں بنانے کے لئے آئے تھے کیا ہم ویسے بن چکے ہیں۔اگر نہیں تو اپنے نفس کا خود جائزہ لیں کہ ہم میں کیا کمزوریاں ہیں۔حَاسِبُوا قَبْلَ أَنْ تُحَاسَبُوا اِس سے پہلے کہ تمہارا حساب لیا جائے خود اپنا حساب کرو اور پھر جب دل میں احساس ہو جائے کہ فلاں فلاں کمزوری ہم میں ہے اُس کو دور کرنے کی کوشش کرے۔ذرا ذرا سی بات پر شکایت پیدا ہو جاتی ہے۔لڑائی جھگڑا ہو جاتا ہے۔دین کے کاموں کے لئے سستیاں ہیں۔دین کو دنیا پر مقدم رکھنا جو ہمارا فرض اولین ہے اس کی طرف بے تو جنگی ہے۔دنیا داری ، رسومات کو مقدم رکھا جاتا ہے۔ہمارا محبوب اور مطلوب تو صرف خدا تعالیٰ ہے۔اُس کی رضا، اُس کے احکامات کو مقدم رکھنا ہمارا فرض ہے۔اپنی اصلاح کریں۔اپنی بہنوں کی اصلاح کریں۔محبت سے، شفقت سے ، معاف کرتے ہوئے اور سب بہنوں کو چاہئے کہ عہد یداروں کے ساتھ مکمل تعاون کریں اور مل کر اپنی اصلاح کی طرف توجہ دیں اور مل کر شاہراہ غلبہ اسلام کی طرف قدم اُٹھائیں۔