خطابات مریم (جلد دوم)

by Other Authors

Page 756 of 988

خطابات مریم (جلد دوم) — Page 756

خطابات مریم 756 پیغامات میں نظم وضبط کا وہ نمونہ نظر نہیں آتا جو آنا چاہئے اور نظم وضبط کی کمی کی وجہ سے پوری توجہ کے ساتھ۔پروگرام بھی نہیں سن سکتیں۔خود نظم و ضبط کی عادت ڈالیں اور بچوں کو اس کی تربیت دیں۔تیسرا بڑا اصول ترقی کا یہ ہے کہ یہ جائزہ لیتی جائیں کہ ہماری ترقی کی رفتار ہمارے مقصد کے مطابق جاری ہے یا نہیں۔اپنے مقصد اور منزل کی تعین کے بعد پروگرام بنائیں اور ایک سال گزرنے پر جائزہ لیا کریں کہ کیا اس سال میں جو ہم نے کام کئے ہیں یہی کرنے چاہئیں تھے یا نہیں ترقی کی رفتار سست رہی ہے جمود تو طاری نہیں ہوا۔پھر سارا سال کام کی رفتار یکساں ہونی چاہئے یہ نہیں کہ سارا سال سوتے رہے اور جب سال ختم ہونے آیا تو رپورٹ تیار کرنے کے لئے جلدی جلدی چندے جمع کئے اجتماع کیا اور چند اور کام کر کے رپورٹ لکھ دی۔آخری وقت کام کرنا روح کو کچل دیتا ہے اگر جذ بہ ہے کام کرنے کی لگن ہے تو سارا سال ان کاموں کی طرف توجہ کرنی چاہئے۔چوتھا اور سب سے بڑا اصول ترقی کا اگلی نسل کو یہ ذمہ داریاں اُٹھانے کے لئے تیار کرنا ہے کیونکہ مستقل ترقی اور کامیابی اسی اصول سے وابستہ ہے کہ چراغ سے چراغ جلتا ر۔رہے اور کہیں خلاء پیدا نہ ہو۔اسی لئے اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں اس امر کی طرف توجہ دلائی ہے۔وَلْتَنْظُرْ نَفْسٌ مَّا قَدَّمَتْ لِغَدٍ کہ ہر نفس کو اس پر غور کرتے رہنا چاہئے کہ اس نے کل کے لئے کیا تیاری کی ہے۔غد" سے مراد کل بھی ہے اور مستقبل بھی اور روز حشر بھی اس لئے بہت ضروری ہے کہ ہم اپنے بچوں کی تربیت کی طرف توجہ دیں جب وہ بڑے ہوں تو ان میں دین کے لئے قربانی دینے کا جذبہ ہم سے بھی بڑھ چڑھ کر ہو۔اللہ تعالیٰ آپ کو اس کی توفیق عطا فرمائے۔مجھے بھی اپنی دعاؤں میں یا درکھیں۔خاکسار مریم صدیقہ صدر لجنہ اماءاللہ مرکزیہ