خطابات مریم (جلد دوم) — Page 701
خطابات مریم 701 پیغامات پیغام برائے سالانہ اجتماع لجنات اما ء اللہ بھارت 1983ء ممبرات لجنہ اماءاللہ بھارت ! بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ السَّلامُ عَلَيْكُمْ وَرَحْمَةُ اللهِ وَبَرَكاتُه میری عزیز بہنو ! آج کل آپ اپنے سالانہ اجتماع منعقد کر رہی ہیں۔اللہ تعالیٰ ان اجتماعات کو بہت بہت با برکت کرے اور اعلیٰ نتائج پیدا کرے۔اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں فرماتا ہے۔لَا خَيْرَ فِى كَثِيرٍ مِنْ نَجُوبِهُمْ إِلَّا مَنْ أَمَرَ بِصَدَقَةٍ أَوْ مَعْرُوفٍ أَوْ إِصْلَاحٍ بَيْنَ النَّاسِ وَمَنْ يَفْعَلْ ذَلِكَ ابْتِغَاءَ مَرْضَاتِ اللَّهِ فَسَوْفَ نُؤْتِيهِ أَجْرًا عَظِيمًا (النساء: 115) ( ترجمہ ) ان لوگوں کو مستی کر کے جو صدقہ یا نیک بات یا لوگوں کے درمیان اصلاح کرنے کا حکم دیتے ہیں ان کے بہت سے مشوروں میں کوئی بھلائی نہیں ہوتی اور جو شخص اللہ کی رضا جوئی کے لئے ایسا کرے یعنی نیک مشورے کرے ہم اسے جلد ہی بہت بڑا اجر دیں گے۔اس آیت میں کانفرنسوں اور مجالس کے متعلق اسلام نے ان کے انعقاد کی تین غرضیں بیان کی ہیں :۔اوّل: مَنْ آمَرَ بِصَدَقَةٍ یعنی ان کے فیصلے ایسے ہوں کہ جن کے نتیجہ میں غرباء کی خبر گیری اور حاجت مندوں کی حاجت روائی ہو۔اس سال مجلس شوری کے موقع پر حضرت خلیفہ امسیح الرابع ایده اللہ تعالیٰ نے جماعت کو یہ خصوصی ہدایت فرمائی تھی کہ احمدیوں کو بلا تفریق مذہب وملت حاجت مندوں کی ضرورت پوری کرنی چاہئے۔وہ خود مانگنے والے نہ ہوں دینے والے ہوں اور اس سلسلہ میں آپ نے جہاں ایسے لوگوں کے لئے جن کے پاس مکان نہیں بیوت الحمد کا منصو بہ جماعت کو عطا فرمایا ہے دوسری طرف ان کے حالات بہتر بنانے کے متعلق ہدایات دی ہیں۔ہر جلسہ میں لجنہ کو اپنے پیش نظر یہ مقصد رکھنا چاہئے کہ زیادہ سے زیادہ خدمت خلق کریں۔لیکن ہر جگہ کوشش کرنی ہے کہ احمدی اپنے پاؤں