خطابات مریم (جلد دوم) — Page 698
خطابات مریم 698 پیغامات پیغام برائے سالانہ اجتماع لجنہ اماءاللہ فی 1983ء بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ پیاری بہنو ممبرات لجنہ اماءاللہ بھی السَّلَامُ عَلَيْكُمْ وَرَحْمَةُ اللهِ وَبَرَكاتُه آپ کی صدر صاحبہ کا خط یکم دسمبر کو مجھے ملا ہے کہ 25 اور 26 دسمبر کو آپ کا سالانہ جلسہ منعقد ہو رہا ہے اور میں اس موقعہ پر کوئی پیغام بھجوا دوں۔خدا کرے وقت پر مل جائے خط کافی دیرہ میں ملا اس سے بہت پہلے کہنا چاہئے تھا۔بہر حال اس مختصر پیغام کے ذریعہ آپ کے جلسہ میں شرکت کر رہی ہوں۔حضرت مسیح موعود بانی سلسلہ احمدیہ نے اپنی بعثت کی غرض مندرجہ ذیل الفاظ میں بیان کی ہے۔انبیاء علیہم السلام کے دنیا میں آنے کی سب سے بڑی غرض اور ان کی تعلیم اور تبلیغ کا عظیم الشان مقصد یہ ہوتا ہے کہ لوگ خدا تعالیٰ کو شناخت کریں اور اس زندگی سے جو انہیں جہنم اور ہلاکت کی طرف لے جاتی ہے اور جس کو گناہ آلود زندگی کہتے ہیں نجات پائیں حقیقت میں یہی بڑا بھاری مقصد ان کے آگے ہوتا ہے پس اس وقت بھی جو خدا تعالیٰ نے ایک سلسلہ قائم کیا ہے اور اس نے مجھے مبعوث فرمایا ہے تو میرے آنے کی غرض بھی وہی مشترک غرض ہے جو سب نبیوں کی تھی یعنی میں بتانا چاہتا ہوں کہ خدا کیا ہے بلکہ دکھانا چاہتا ہوں اور گناہ سے بچنے کی راہ کی طرف راہبری کرتا ہوں۔( ملفوظات جلد دوم صفحہ 8-9) اس میں آپ نے یہ بتایا کہ جو آپ کی بیعت میں داخل ہوں ان کو اللہ تعالیٰ کی معرفت حاصل ہو۔اللہ تعالیٰ سے دعاؤں کے ذریعہ ذاتی تعلق پیدا ہو۔اگر یہ مقصد حاصل نہیں ہوتا تو بیعت کرنے کا بھی کوئی فائدہ نہیں۔پس آپ سب کو اپنا جائزہ لینا چاہئے کہ کیا آپ کا عمل وہ ہے یا نہیں جس کی تاکید حضرت مسیح موعود نے شرائط بیعت میں کی ہے اور آپ اپنی زندگیاں اسی