خطابات مریم (جلد دوم) — Page 684
خطابات مریم 684 پیغامات پیغام برائے سالانہ اجتماع لجنہ اماءاللہ سویڈن 1982 ء بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ نَحْمَدُهُ وَ نُصَلِّي عَلَى رَسُوْلِهِ الْكَرِيمِ وعلى عبده المسيح الموعود ممبرات لجنہ اماءاللہ۔سویڈن السَّلامُ عَلَيْكُمْ وَرَحْمَةُ اللهِ وَبَرَكاتُه آپ نے اپنے پہلے سالانہ اجتماع کے لئے مجھ سے پیغام مانگا ہے ایسے موقعہ پر جب کہ ہمارے محبوب امام حضرت خلیفتہ اسیح الثالث رحمہ اللہ تعالیٰ کی جدائی سے دل زخمی ہیں وہ جس نے جماعت کو شاہراہ غلبہ اسلام پر تیزی سے چلنا سکھایا اور اللہ تعالیٰ سے بشارتیں پا کر ہمیں غلبہ اسلام کی بشارتیں دیں جو ہنس ہنس کر ہر تیر سہتا رہا اور اپنی جماعت کو ہنسنا سکھاتا رہا اور یہی درس دیتا رہا کہ سب سے محبت کرو۔نفرت کسی سے نہیں کرنی۔اور محبت کا تقاضا یہ ہے کہ ان کو بتاؤ سیدھا راستہ کونسا ہے۔آج وہ پیارا وجود ہم میں نہیں۔ہمارا فرض ہے کہ ان کی بلندی درجات کی دعائیں مانگنی کبھی نہ بھولیں۔ان کی بیگم اور بچوں کو ہمیشہ اپنی دعاؤں میں یا درکھیں اور اپنے رب کے حضور قربانی پیش کرنے اور وفاداری کا جو سبق اس نے ہمیں سکھایا ہے اس پر عمل کرتے رہیں۔اللہ تعالیٰ مومنوں کی جماعت سے پہلے بھی اپنا وعدہ پورا کرتا چلا آیا ہے اور ابھی بھی خوف کی حالت کو اس نے امن سے بدلا اور ساری جماعت کو ایک ہاتھ پر متحد کر کے ہمیں بتایا کہ جو خدا تعالیٰ کے وفادار ہیں وہ کبھی ضائع نہیں ہوتے پس جہاں جانے والے کی یاد سے ہمارے دل غمگین ہیں وہاں اپنے رب کے احسانات کی وجہ سے خوش اور بہت خوش ہیں کہ وہی ہمارا آقا ہے۔پس آپ کو میری یہی نصیحت ہے کہ خلافت سے اپنے کو وابستہ رکھیں کہ یہ بہت بڑی نعمت ہے جو اللہ تعالیٰ نے محض اپنے فضل سے جماعت احمدیہ کو عطا کی ہے کسی قسم کی منافقت اور اتحاد کو کم کرنے والی بات کو برداشت نہ کریں۔اپنے بچوں کو بھی خلافت سے محبت اور خلیفہ وقت کی اطاعت کا سبق دیتی رہیں کہ جماعت احمدیہ کی ساری ترقیات صرف خلافت کے ساتھ وابستہ