خطابات مریم (جلد دوم) — Page 45
خطابات مریم 45 تحریرات کے لیے بے انتہا محنت کی اور تعلیم الاسلام کالج کے بچے ہر میدان میں آگے نکلے ان کی صحت ان کی تعلیم کا خیال اپنے بچوں سے بھی بڑھ کر رکھتے تھے۔1965ء میں حضرت مصلح موعود کی وفات کے بعد آپ خلیفہ منتخب ہوئے۔ایک نیا دور شروع ہوا جماعت نے آپ کی خلافت میں بہت ترقی کی۔نئے مشن کھلے قرآن مجید کی بہت اشاعت ہوئی قرآن مجید کے تراجم ہوئے مساجد تعمیر ہوئیں اور سب سے بڑھ کر پین میں سات سوسال کے بعد مسجد کی تعمیر ہوئی۔ا آپ نے بچوں کی طرف خصوصی توجہ فرمائی۔خلیفہ ہونے کے کچھ عرصہ کے بعد ہی آپ نے مالی قربانی کا جذبہ پیدا کرنے کے لیے وقف جدید کی تحریک فرمائی کہ ہر بچہ اپنے خرچ میں سے ایک اٹھنی یعنی پچاس پیسے بچا کر دین کی خاطر جماعت کو دے۔اچھی عادتیں بچپن میں ہی پڑتی ہیں قربانی کا جذبہ بھی بچپن سے ہی پڑتا ہے بچپن میں پیسے خرچ کرنے کا بچوں کو شوق ہوتا ہے آپ نے وقف جدید کا دفتر اطفال و ناصرات اس غرض سے شروع کیا تا بچپن سے ہی بچوں میں خیال پیدا ہو کہ ہم نے جماعت کی ترقی کے لیے کچھ کرنا ہے۔بچوں میں تعلیم کا شوق پیدا کیا۔ایک طرف تو جماعت کے مرد اور عورتوں کو یہ ہدایت دی کہ کوئی ایک فرد جماعت کا ایسا نہیں ہونا چاہئے جو قرآن نہ پڑھا ہوا ہو دوسری طرف ہر بچہ میں پڑھائی کا شوق پیدا کرنے کے لیے طلائی تمغوں اور وظائف کا سلسلہ شروع کیا ہر بچہ کو ارشاد فرمایا کہ اپنے سالانہ امتحان کے نتیجہ سے حضور کو آگاہ کرے حضور اس کا نتیجہ دیکھتے اور اس کے لئے دعا کرتے تھے۔آپ نے جماعت کے بچوں کو ہر وقت مسکرانے کا سبق دیا ہے۔1974ء کے فساد میں جب آپ کے پاس نوجوان آکر بتاتے تھے کہ فلاں کے ساتھ یہ ہوا فلاں کو یوں دکھ دیا گیا تو آپ اسے فرماتے کہ مسکرا کر بات کرو ہمت دلاتے ، پیار کرتے تسلی دیتے اور جب وہ آپ کے پاس سے جار ہا ہوتا تو اس کے دل میں ایک نیا عزم ہوتا ہے۔اپنی ساری زندگی انہوں نے بچوں کو یہی سبق دیا کہ کیسے ہی خطرات پیش آئیں ہنستے ہوئے انہیں برداشت کرنا ہے۔آپ نے ” محبت سب کے لیے نفرت کسی سے نہیں“ کا نعرہ بلند کر کے پیارے بچو! آپ کو