خطابات مریم (جلد دوم) — Page 651
خطابات مریم 651 پیغام سالانہ اجتماع ناصرات الاحمدیہ کراچی 1980 ء بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ نَحْمَدُهُ وَنَصَلَّي عَلَى رَسُولِهِ الْكَرِيم وَعَلَى عَبْدِهِ الْمُسَيَحَ الْمُوَعُود پیاری بہنو السَّلَامُ عَلَيْكُمْ وَرَحْمَةُ اللهِ وَبَرَكاتُه پیغامات آپ کا تربیت اور تقسیم اسناد کا جلسہ آج ہو رہا ہے اور اس پیغام کے ذریعہ میں آپ کی خدمت میں حاضر ہورہی ہوں۔جن بہنوں اور بچیوں نے اپنی سالانہ کارگزاری کے لحاظ سے سندات حاصل کی ہیں۔میں ان کو مبارک باد پیش کرتی ہوں۔اللہ تعالیٰ اس سے بڑھ کر خدمت دین کی توفیق عطا فرمائے۔ہماری یعنی لجنہ کی توجہ آپ کی تربیت کی طرف کم تھی۔موجودہ سائنسی دور میں دلائل اور بحث سے منوانے کا اثر دوسرے پر کم ہوتا ہے اچھے نمونے کا زیادہ ہوتا ہے۔اگر ہمارا عمل ہمارے دعوئی کے مطابق ہے۔قرآن مجید کی تعلیم اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشادات کے مطابق ہے تو خود بخود دنیا کے دل ہماری طرف مائل ہونگے۔دنیا کے دوسرے ممالک اور مذاہب کی خواتین تو اس لئے حقوق کا مطالبہ کر رہی ہیں کہ ان کو جائز حقوق حاصل نہیں۔مسلمان خاتون کو تو چودہ سو سال قبل وہ حقوق حاصل ہو چکے ہیں جو آج بعض جگہ ترقی یافتہ ملک کی خواتین کو بھی نصیب نہیں لیکن حقوق کے ساتھ ساتھ دوسری چیز ذمہ داری ہے۔اسی چیز کو قرآن مجید میں ان الفاظ میں بیان فرمایا - وَلَهُنَّ مِثْلُ الَّذى عَلَيهِنَّ بِالمَعْروفِ جس طرح عورتوں پر کچھ ذمہ داریاں ہیں ایسے ہی مطابق دستور انہیں بھی کچھ حقوق حاصل ہیں یعنی قرآن کریم یہ تعلیم دیتا ہے کہ حقوق لینے کے ساتھ ساتھ اپنی شخصی اور قومی ذمہ داریوں کا بھی احساس کرو۔عورت اگلی نسل کی ماں ہے۔مرد سے زیادہ اس کی تعلیم و تربیت ہونی چاہئے اور صحیح تربیت کے لئے ضروری ہے کہ دین سے پوری طرح واقف ہو۔ایک ماں جسے خود دین سے دلچپسی