خطابات مریم (جلد دوم) — Page 645
خطابات مریم 645 پیغامات پیغام برائے سالانہ اجتماع لجنہ اماءاللہ قادیان 1979ء میری عزیز بہنو ! السَّلَامُ عَلَيْكُمْ وَرَحْمَةُ اللهِ وَبَرَكاتُه آج ان چند سطور کے ذریعہ آپ کے سالانہ اجتماع میں شرکت کرنے کی توفیق پا رہی ہوں۔اللہ تعالیٰ آپ کے اس اجتماع کو جس کے انعقاد کی غرض خود کو شاہراہ غلبہ اسلام پر تیز چلنے کی تربیت دینا اور تیاری کرنا ہے، مبارک کرے۔نیک نتائج نکلیں۔اسلام زندہ مذہب ہے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم زندہ نبی ہیں اور قرآن کریم زندہ کتاب ہے لیکن ہم بھی زندہ ہیں۔اس کا ثبوت قرآن کریم کی تعلیم پر عمل کر کے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے اسوہ پر عمل کرتے ہوئے صحابہ اور صحابیات رضی اللہ تعالیٰ کے نقش قدم پر چلتے ہوئے ہم نے دینا ہے۔اللہ تعالیٰ نے حضرت مہدی علیہ السلام کو غلبہ اسلام کی عظیم بشارتیں دی ہیں جس کے آثار صبح صادق کی طرح نظر آ رہے ہیں۔غلبہ اسلام کی صدی شروع ہونے میں صرف دس سال باقی ہیں اور ایک زندہ قوم کی زندگی میں یہ عرصہ کوئی اہمیت نہیں رکھتا۔وقت کم ہے اور کام زیادہ۔اس صدی کے استقبال کے لیے ہم نے بہت قربانیاں دینی ہیں اور دوسری اقوام کو علم دین سکھانے کے لیے اپنے آپ کو اور بچیوں کو تیار کرنا ہے۔پس بہت زور دیں قرآن مجید کا ترجمہ سکھانے پر اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی کتب پڑھانے پر اور جائزہ لیں خود اپنا بھی اور اپنی بہنوں کا بھی اور بچیوں کا بھی۔کیا ہمارا کردار اور ہمارے اخلاق قرآن مجید کی تعلیم کے عین مطابق ہیں یا نہیں ؟ اسلام ہی وہ واحد مذہب ہے جس کے اصولوں پر چل کر امن قائم ہوسکتا ہے۔اور بنی نوع انسان ایک دوسرے سے محبت کرتے ہیں۔پس لجنہ اماءاللہ کی مہرات کا یہ فرض ہے کہ وہ ہر انسان سے بلا تفریق مذہب و ملت محبت کریں۔صحیح راہ دکھانے والی ہوں۔اپنے عمل سے ، اپنے حسن اخلاق سے ، اپنے کردار سے ، اپنے حسن سلوک سے، اپنی محبت سے دنیا کے دلوں کو موہ کر