خطابات مریم (جلد دوم) — Page 41
خطابات مریم 41 تحریرات وفات کے اگلے دن جمعہ تھا۔اکثر کا خیال تھا کہ غم سے اتنے نڈھال ہیں اور کئی رات سے تیمارداری اور پریشانی کی وجہ سے سوئے نہیں اس لئے شائد جمعہ پڑھانے نہ جاسکیں لیکن جماعت کی تسلی کیلئے آپ گئے خطبہ دیا ، نماز پڑھائی، ساری جماعت کو صبر کی تلقین کی۔اب تو میں محسوس کرتی ہوں کہ چونکہ چھ ماہ کے بعد ان کی اپنی وفات مقدر تھی۔اللہ تعالیٰ جماعت کو اُن کے منہ سے صبر کی تلقین کروا کے آنے والے حادثہ کے لئے تیار کر رہا تھا۔جب سیدہ منصورہ بیگم کی وفات کے بعد آپ نے دوسری شادی طاہرہ صدیقہ سلمہا سے کی تو پوری محبت اور وفاداری سے ان کے حقوق ادا کئے۔اللہ تعالیٰ کی تقدیر دو ماہ بعد ہی وارد ہو گئی۔لیکن دو ماہ کا عرصہ جو طاہرہ صدیقہ کے ساتھ گزرا محبت پیار اور خیال رکھنے کا کوئی پہلو تشنہ نہ رہنے دیا۔حضرت اماں جان سے بے حد پیار تھا اور میرے ابا جان اور چچا جان سے بھی جن کو حضرت مصلح موعود کی وجہ سے ان کے سب بچے بھی بڑے ماموں جان اور چھوٹے ماموں جان کہتے تھے۔مئی 1982ء میں حضرت خلیفہ المسح الثالث رحمہ اللہ تعالیٰ نے میرے نواسے سید شعیب احمد کا نکاح پڑھایا جو حضرت میر محمد الحق صاحب کا پوتا ہے وہ آخری نکاح تھا جو اپنی خلافت میں آپ نے پڑھایا۔خطبہ دیتے ہوئے حضرت اماں جان اور حضرت چچا جان کے ذکر پر بار بار آبدیدہ ہوتے تھے اور رقت طاری ہو جاتی تھی۔نکاح کے بعد آپ قصر خلافت میں تشریف لائے۔شام کو متین اور محمود ملنے گئے تو فرمانے لگے کہ متین ! اماں جان اور ماموں جان کی یاد سے میری عجیب کیفیت ہو گئی۔یادیں آتی چلی گئیں اور اتنی رقت طاری ہوئی کہ خطبہ میں تمہارا ذکر بھی نہ کر سکا۔خلیفہ خدا بناتا ہے اور اللہ تعالیٰ انتخاب کے وقت مومنین کے دلوں کو اس طرف پھیر دیتا ہے۔ہر خلافت کے وقت ایسا ہی ہوا۔حضرت مصلح موعود کی بیماری کے آخری ایام تھے۔آخری بیماری میں جب آپ چلنے پھرنے کے قابل نہ رہے تھے جمعہ کے دن مؤذن پوچھنے آتا کہ جمعہ کون پڑھائے گا عموماً آپ فرماتے۔شمس صاحب یعنی مولانا جلال الدین صاحب شمس کبھی شمس صاحب مرحوم ربوہ سے باہر گئے ہوتے تو فرماتے مولانا ابوالعطاء صاحب یا