خطابات مریم (جلد دوم)

by Other Authors

Page 40 of 988

خطابات مریم (جلد دوم) — Page 40

خطابات مریم 40 تحریرات علاج وغیرہ بھی بتایا۔آپ نے فرمایا میں آپ کو اس حال میں چھوڑ کر نہیں جا سکتا اس پر حضرت خلیفہ اول نے فرمایا۔میاں وہ صرف تمہارا بیٹا ہی نہیں حضرت مسیح موعود کا پوتا بھی ہے۔اس پر آپ گئے۔اللہ تعالیٰ نے فضل کر دیا اور مرزا ناصر احمد شفایاب ہو گئے اس واقعہ سے جہاں حضرت مصلح موعود کی خلافت سے محبت کا اظہار ہوتا ہے کہ خلافت پر بیٹے کی محبت اور زندگی قربان کرنے کو تیار ہو گئے وہاں حضرت خلیفہ اول کی حضرت مسیح موعود کی اولاد سے شدید محبت بھی ظاہر ہوتی ہے۔آج ان وجودوں میں سے ایک بھی نہیں لیکن یہ عظمت کے مینار نہ مٹنے والی یادیں اور قربانی کی عظیم راہیں ہمارے لئے استوار کر گئے ہیں۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے۔خیر کم خیر کم لاھلہ تم میں سے سب سے بہتر وہ ہے جو اپنے اہل سے اچھا ہو۔بڑے بڑے عالم اور لیڈر دنیا کے سامنے اخلاق کے متعلق تقریر میں کرتے ہیں لیکن گھروں میں بیویوں پر سختی اور ظلم کرتے دیکھے گئے ہیں۔آپ نمونہ تھے اپنے اہل کے ساتھ بہترین سلوک کا۔سیدہ منصورہ بیگم کے ساتھ آپ کی جو زندگی گزری وہ خود آپ کے قول کے مطابق دو وجودوں کی ایک زندگی تھا۔بے حد محبت اور خیال رکھنے والے شوہر بے انتہا شفیق باپ تھے۔گھریلو زندگی میں بیوی بچوں کی چھوٹی چھوٹی بات کا خیال رکھنا۔سب عزیزوں سے درجہ بدرجہ تعلق رکھنا اور ان کے حقوق ادا کر کے آپ نے بتا دیا کہ اللہ تعالیٰ کا پیارا وہی ہوتا ہے جو ایک طرف اللہ تعالیٰ کے حقوق ادا کرے اور دوسری طرف حقوق العباد بھی۔سیدہ منصورہ بیگم کی وفات پر غانا کی ایک عورت نے مجھے تعزیت کا خط لکھا اس میں اس نے اس بات کا اظہار کیا کہ ہم نے اس بات کو خاص طور پر نوٹ کیا کہ جب بھی سیدہ منصورہ بیگم حضور کے ہمراہ تشریف لے جاتیں حضور اس وقت تک نہیں بیٹھتے تھے جب تک یہ تسلی نہیں ہو جاتی تھی کہ منصورہ بیگم بیٹھ گئیں ہیں اور اپنے نمونہ سے عورت کی عزت اور احترام قائم کرنے کا وہ مشورہ دیا جو آ نحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے چودہ سو سال پہلے دیا تھا۔سیده منصورہ بیگم کی وفات پر جس عظیم صبر کا آپ نے نمونہ دکھا یا وہ بھی اپنی مثال آپ تھا۔سینتالیس سالہ رفیقہ حیات جدا ہو گئی ہے بچے تڑپ رہے ہیں آپ کہتے ہیں صبر کرو۔الحمد للہ پڑھو۔انا للہ پڑھو۔رونا نہیں۔جماعت کے لوگ آتے ہیں ان کو بھی یہی تلقین۔منصورہ بیگم کی