خطابات مریم (جلد دوم) — Page 39
خطابات مریم 39 39 تحریرات شادی کے بعد سے مجھے آپا صدیقہ کہہ کر بلاتے تھے چونکہ حضرت سیدہ اُم طاہر کا نام مریم بیگم تھا اس لئے حضرت مصلح موعود مجھے نام کے پچھلے حصہ یعنی صدیقہ کہہ کر بلا یا کرتے تھے۔حضرت مصلح موعود کے سب بچے مجھے چھوٹی آپا کہتے ہیں سوائے حضرت مرزا ناصر احمد کے آپ نے ہمیشہ آپا صدیقہ کہہ کر مخاطب کیا۔ان کے بعد اب اس نام سے پکارنے والا کوئی نہیں رہا۔ہمیشہ ہی بہت ادب احترام اور محبت کا سلوک رکھا اور خلیفہ ہونے کے بعد تو انہوں نے اتنے احسان کئے کہ میں گن نہیں سکتی۔میں بھی شادی کے بعد حضرت اماں جان کے ساتھ رہی۔حضرت مرزا ناصر احمد گو قادیان میں اپنی کوٹھی النصرت میں رہتے تھے لیکن قریباً روزانہ ہی اماں جان کے ہاں آیا کرتے تھے۔جمعہ والے دن تو صبح ہی آ جاتے تھے اور ہم سب مل کر کھانا کھاتے۔اماں جان خاص طور پر کہتیں آج میاں ناصر اور منصورہ سارا دن کیلئے آ رہے ہیں فلاں کھانا تیار کرلو۔فلاں چیز ناصر احمد کو بہت پسند ہے مجھے یاد ہے زردہ خوب پستے بادام ڈال کر پکوایا کرتی تھیں کہ آپ کو بہت پسند تھا بعد میں جب آپ کو ذیا بیطیس کا مرض لاحق ہوا تو میٹھا کھانا آپ نے چھوڑ دیا۔حضرت مصلح موعود کو حضرت مرزا ناصر احمد سے بہت گہری محبت تھی۔عموماً جیسا کہ دستور ہے بڑے بیٹے سے ذرا تکلف ہوتا ہے۔میں نے کبھی بہت بے تکلفی سے دونوں کو باتیں کرتے نہیں دیکھا لیکن جب جماعتی کام ہوتے تھے اس وقت سب سے پہلے ان کو ہی بلا کر کاموں کی ہدایت دینی۔کام سپرد کرنے ، پورا اعتماد تھا ان پر لیکن آخری بیماری میں اس محبت کا جو حضرت مصلح موعود کو اپنے سب سے بڑے بیٹے سے تھی کھل کر اظہار ہوا۔حضرت مصلح موعود کو حضرت خلیفہ اول سے بہت محبت تھی اور خلافت کا بے انتہا احترام اور یہی سبق آپ نے اپنی اولا د کو دیا۔حضرت مرزا ناصر احمد صاحب کو ایک خط میں یہ واقعہ لکھا اور میں نے خود آپ سے سنا بھی ہوا تھا۔فرمایا کہ جب مرزا ناصر احمد چھوٹے سے تھے شاید سال ڈیڑھ سال کی عمر تھی تو بہت سخت بیمار ہو گئے اُدھر حضرت خلیفہ اول بیمار ہو گئے تو آپ اپنے بچہ کو چھوڑ کر حضرت خلیفہ اول کی خدمت میں حاضر ہو گئے۔بچہ کی حالت نازک ہو گئی گھر سے آدمی بلانے آیا آپ نہیں گئے۔حضرت خلیفہ اول کے علم میں آیا تو آپ نے کہا جاؤ بچہ کے پاس