خطابات مریم (جلد دوم)

by Other Authors

Page 603 of 988

خطابات مریم (جلد دوم) — Page 603

خطابات مریم 603 خطابات جلسه کسوف و خسوف ضلع منڈی بہاؤالدین منعقدہ 20 اپریل 1994ء تشہد وتعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد آپ نے فرمایا کہ آنے والے مہدی کا کام يُحْيِ الدِّينَ وَيُقِيمُ الشَّرِيعَة ( تذکرہ صفحہ 55) بیان فرمایا ہے۔خدا کے نیک بندے اس لیے دنیا میں آتے ہیں کہ دنیا کے کمزور بندوں کو راہ راست پر لائیں۔برے کاموں سے روک کر نیکی کی راہ دکھا ئیں۔ہماری تربیت کیلئے بہت ضروری ہے کہ ہم آنحضرت کی سیرت کو دیکھیں اور اس کے مطابق اپنی زندگیاں گزاریں اس کے بغیر ہماری تربیت نہیں ہو سکتی۔آپ نے فرمایا بُعِثْتُ لا تَمِّمَ مَكَارِمَ الاخلاق حضور صفات الہیہ کے مکمل مظہر تھے۔آپ تمام دنیا کیلئے رحمت کا بادل بن کر بر سے فرمایا إِنِّي رَسُولَ الله اليكم جميعاً (الاعراف: 159) تمام دنیا کی اصلاح آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعہ ہوئی۔اصلاح کی راہ میں آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کو کونسی تکلیف نہیں دی گئی۔لیکن آپ نے اپنے کام میں بالکل کوئی رخنہ نہیں آنے دیا۔حضرت خدیجہ نے بھی آپ کے متعلق جو گواہی دی وہ بہت عظیم الشان ہے۔پھر صلہ رحمی کی صفت بیان فرمائی۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا دل وسیع اور ٹھاٹھیں مارتا ہوا سمندر نظر آتا ہے۔جس میں اپنے اور غیروں کیلئے بہت محبت تھی۔آپ ہر مذہب اور غیر مذہب والے کی مہمان نوازی فرماتے تھے۔اپنے عمل سے آپ نے یہ بات ثابت کر دی کہ نسلی تعصب کو بالکل ختم کر دیا۔تمام اخلاق قرآن کریم کے آپ میں موجود تھے۔حضرت عائشہ فرماتی ہیں۔كَانَ خُلُقُهُ الْقُرْآن ( مسند احمد بن حنبل جلد 6 صفحہ 91) آپ کا قول و فعل ایک تھا۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے دنیا میں نیا آسمان اور نئی زمین پیدا کی۔آپ نے اپنی وسیع نظری سے ہر طبقے کی کفالت فرمائی۔