خطابات مریم (جلد دوم)

by Other Authors

Page 36 of 988

خطابات مریم (جلد دوم) — Page 36

خطابات مریم تقاریر 36 36 تحریرات طویل سفروں کی داستان ایک الگ مضمون چاہتی ہے۔اس لئے فی الحال ان کی تفصیل اس مختصر مضمون میں چھوڑ رہی ہوں۔لیکن جہاں جہاں گئیں وہاں کی مستورات کے دلوں پر وہ نقش ثبت کئے کہ وہ کبھی ان کو بھول نہ سکیں گی اور جو تربیت ان کی سیدہ منصورہ بیگم کے جانے اور ان کا نمونہ دیکھ کر ہوئی ہے وہ سینکڑوں تقریروں سے بھی نہیں ہو سکتی تھی۔مثلاً پردہ ہے جو پردہ کے خلاف ہیں وہ سب سے بڑی دلیل یہ دیتے ہیں کہ پردہ میں باہر کے ملکوں میں رہنا مشکل ،سفر مشکل اور پردہ ترقی کی راہ میں روک ہے وغیرہ۔مگر انہوں نے اپنے نمونہ سے ثابت کر دیا کہ پر وہ کسی کام میں روک نہیں ہے۔آپ پہلے تقریر نہیں کرتی تھیں مگر حضور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کے خلیفہ ہونے کے بعد 1967ء کے جلسہ پر آپ نے پہلی دفعہ تقریر کی اور اس کے بعد سے اجتماع 1981ء تک قریباً ہر اجتماع اور ہر جلسہ پر تقریر کی سالانہ اجتماع 1981ء کے موقعہ پر بھی آپ نے تقریر کی اور اس سال لجنہ کی مجلس شوریٰ میں بھی پورے وقت شریک رہیں اور ہر تجویز پر ٹھوس رائے دی اور بدعات و رسومات کے خلاف بہنوں کو بہت تاکید فرماتی رہیں۔اس وقت کسے معلوم تھا کہ یہ آخری موقع ہے جس میں بہنیں آپ کی نصیحتوں سے فیضیاب ہو رہی ہیں۔اے جانے والی روح! تجھ پر سلام تو نے اس دنیا میں اپنے فرض کو خوب سمجھا اور نبھایا۔ایک مثالی زندگی پیش کی اور جب تیرے رب کا بلاوا آیا تو لبیک کہتے ہوئے یوں رخصت ہوئی گویا اس دنیا اور دنیا والوں سے کوئی واسطہ ہی نہ تھا اور اپنے پیارے ماموں جان کے قریب جا سوئی۔اس میں کیا شک ہے کہ آپ کی زندگی بڑی کامیاب اور شاندار گزری اور آپ کی وفات بھی شاندار تھی۔اللَّهُمَّ نَوِّرها مَرْقَدَها وَارْفَعُها في أعلى عليين اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ ہمارے آقا حضور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کو لمبی صحت والی زندگی عطا فرمائے اور آپ کے ذریعہ احمدیت کو زیادہ سے زیادہ ترقی عطا فرمائے۔آمین اللھم آمین ماہنامہ مصباح فروری 1982ء) ☆