خطابات مریم (جلد دوم) — Page 35
خطابات مریم 35 تحریرات شروع ہوگئیں وہ اس سے بری تھیں بہترین لباس پہنا بطور تحدیث نعمت کے مگر کبھی ان چیزوں کیلئے کسی قسم کی حرص و غیرہ ان میں نظر نہ آئی۔طبیعت میں صفائی کا جذبہ انتہا پسندی تک تھا مگر سادگی کا پہلو لئے ہوئے۔خوشبوؤں سے بہت پیار تھا کبھی یاد نہیں کہ آپ کے کپڑوں اور جسم میں سے خوشبو نہ آ رہی ہو۔گھر اور ماحول کو صاف رکھتی تھیں۔لجنہ اماءاللہ کی خدمات 1945 ء میں حضرت مصلح موعود نے پہلی مرتبہ لجنہ اماء اللہ مرکز یہ کی تشکیل کرنے کا ارشاد فرمایا۔اس سے قبل قادیان کی لجنہ کو ہی لجنہ مرکز یہ سمجھا جاتا تھا۔حضور کے ارشاد کے مطابق جو پہلی عاملہ تشکیل کی گئی اس میں سیدہ منصورہ بیگم کو سیکرٹری تربیت و اصلاح کا عہدہ دیا گیا جو اُنہوں نے بہت ذمہ داری سے نبھایا اور ہجرت تک آپ اسی عہدہ پر فائز رہیں۔1946ء میں قادیان میں الیکشن کے دنوں میں بھی آپ نے بہت کام کیا عورتوں کے ووٹ ڈلوانے کے کام کی نگرانی کرنے کیلئے ایک کمیٹی بنائی گئی تھی سیدہ منصورہ بیگم بھی اس کمیٹی کی مبر تھیں۔1948ء میں آپ کے سپر د شعبہ خدمت خلق کیا گیا اور عارضی طور پر کچھ عرصہ آپ نے جنرل سیکرٹری کے فرائض بھی سرانجام دیئے۔1952ء میں آپ لجنہ اماءاللہ لاہور کی صدر منتخب ہوئیں اور چار سال وہاں کی لجنہ اماءاللہ کی صدارت کے عہدہ پر فائز رہیں اور لجنہ اماء اللہ لا ہور کے کام کو ترقی دی۔وہاں کی تنظیم فرمائی۔اہم ترین خدمات ان کی اہم ترین خدمات کا سلسلہ حقیقت میں 1965ء سے شروع ہوتا ہے جب حضرت مرزا ناصر احمد صاحب مسند امامت پر متمکن ہوئے اور آپ کی ذمہ داریوں میں کئی سو گنا اضافہ ہو گیا۔پاکستان کے مختلف شہروں کے علاوہ سات بیرونی ممالک کے دوروں میں آپ حضور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کی ہمسفر رہیں۔آپ کی خدمت کے علاوہ وہاں کی مستورات سے ملنا ان کے جلسوں میں خطاب کرنا ان سے مصافحے کرنا ان کے بچوں سے پیار کرنا۔ان کے مسائل کو سننا مفید مشورے دینا ان سات طول