خطابات مریم (جلد دوم) — Page 574
خطابات مریم 574 خطابات خطاب ضلعی صدرات شہر واضلاع پاکستان (26 /اپریل 1991ء) تشہد وتعوذ کے بعد آپ نے فرمایا کہ شوری پر نمائندگان نے آنا ہی تھا ہم نے ضلعی صدروں کو بھی مدعو کر لیا۔پچھلے چھ ماہ کے کام کا جائزہ لینے سے پتہ چلتا ہے کہ ہمارے قدم ترقی کی طرف بڑھتے نظر نہیں آتے۔بہت کم لجنات رپورٹس بھیجتی ہیں۔ضلعی صدروں کے تقرر کی وجہ ہی یہ تھی کہ وہ کام میں بیداری پیدا کریں۔مرکز سے تعلق کو مضبوط کریں اپنے علاقوں کے دورے کریں اور جلسوں کا انعقاد کرتے ہوئے اپنے ضلع کی ست لجنات کو بیدا کریں لیکن جب تک آپ اپنے کاموں کی رپورٹس نہیں بھیجیں گی کام مکمل نہیں ہوگا۔پاکستان میں نو سو پچاس مجالس ہیں جن میں سے ڈیڑھ سو یا دو سو اپنے کام کی رپورٹ بھیجتی ہیں۔یہ رجحان دیکھتے ہوئے کہا نہیں جا سکتا کہ جماعتی نظام عمدگی کے ساتھ چل رہا ہے۔یہ درست ہے کہ شہری لجنات عمدگی سے کام کر رہی ہیں لیکن جب تک سارے ضلع کو ہمراہ لے کر نہیں چلیں گی اس وقت تک کاموں میں وسعت پیدا نہیں ہوگی لجنہ کے نظام کے تحت چھ ماہ گزر چکے ہیں لیکن سیالکوٹ اور فیصل آباد جیسے بڑے اضلاع سے پانچ یا چھ رپورٹیں موصول ہوئیں ہیں یہ تعداد اگر پچاس یا ساٹھ ہو کہا جا سکتا ہے کہ کام ہو رہا ہے اور محنت کی جا رہی ہے۔چھ ماہ کی رپورٹس کے مطابق دوروں کی تعداد بے حد کم ہے ضلع کی صدر کو چاہئے کہ وہ تحصیل وار چھوٹے شہروں کا دورہ کریں۔اگلے دو تین ماہ میں دوروں کا پروگرام رکھیں۔فرمایا کہ میرا ارادہ ہے کہ مئی جون جولائی میں دوروں کا پروگرام رکھوں۔لیکن ان دوروں کی تعداد خود مقرر نہ کریں۔بلکہ پہلے ہم سے منظوری حاصل کریں پھر تاریخ مقرر کریں۔رپورٹس کے بارہ میں دوسری اہم بات یہ ہے کہ ان میں غیر ضروری باتیں بہت ہوتی ہیں لیکن