خطابات مریم (جلد دوم) — Page 572
خطابات مریم 572 خطابات قائم کیا آپ اس یقین پر قائم تھے کہ کوئی قوم اس وقت تک ترقی نہیں کر سکتی جب تک اس کے مرد اور عورتیں برابر کوشش نہ کریں اور قربانیاں نہ دیں۔وہ قوم جس کو کھڑا ہی اس لیے کیا گیا کہ اس نے صرف اپنی ہی نہیں بلکہ ساری قوم کی اصلاح کرنی ہے اور اسلام پھیلانا ہے حضرت اقدس کا پیغام دنیا تک پہنچانا ہے اور دنیا کو صداقت کی طرف لانا ہے انہیں تو سب سے پہلے اپنے نفس کی اصلاح کرنی ہے۔جہالت کے سلسلہ میں آپ نے اس جانب ممبرات کی توجہ مبذول فرمائی کہ احمدی بچہ جاہل نہیں رہنا چاہیے۔خواہ وہ لڑکا ہو یا لڑکی۔چاہیے کہ ہر ایک کو قرآن نہ صرف ناظرہ بلکہ با تر جمہ آتا ہو۔کیونکہ صرف عربی کے الفاظ دُہرانے سے اصلاح ممکن نہیں۔تلفظ درست ہوں۔مائیں اپنے بچوں کی نگرانی کریں۔اگر ہر احمدی عورت یہ عہد کر لے کہ ہم اپنی اولا دکو جاہل نہیں رکھیں گے ان کو تعلیم دلوائیں گے تاکہ اُن کے دماغ روشن ہوں اور انہیں اپنے فرائض کا احساس ہو۔پھر آپ نے فرمایا کہ حضرت خلیفہ اصیح الرابع ایدہ اللہ تعالیٰ نے نئے سال کیلئے تربیت کا بہت بڑا پروگرام بنایا ہے جس میں سر فہرست ”نماز ہے۔نمازوں میں ست نہ ہوں۔عورت تو گھر کی ملکہ ہوتی ہے اُسے چاہیے کہ اپنے خاوندوں اور اپنے بچوں کی نگرانی کرے۔عورت کی سستی اور کمزوری سے ایک گھر نہیں تباہ ہوتا بلکہ ایک نسل تباہ ہوتی ہے جس کا پھر واپس آنا بہت مشکل ہوتا ہے۔دوسری بات جس کی طرف حضور پر نور نے توجہ دلائی ہے وہ وسعت حوصلہ ہے۔چھوٹی چھوٹی باتوں کیلئے حوصلہ پیدا کریں اور احمدی عورتوں کے دل تو بہت مضبوط ہیں وہ تو بڑی تکالیف کو برداشت کر لیتی ہیں پھر یہ برادریوں کے جھگڑے کیوں ختم نہیں کرتیں۔آپ نے فرمایا کہ ایک بڑی رقم جو خدمت دین میں لگائی جاسکتی ہے وہ رسومات میں خرچ۔کر دی جاتی ہے رسومات اور بدعات سے پر ہیز کریں۔چندہ کی بابت فرمایا کہ چندہ دینے کا جتنا جذ بہ احمدی عورتوں میں ہے شاید ہی دنیا کی کسی اور قوم میں ہو۔لیکن چاہیے کہ آپ وقت پر چندہ بھجوائیں کیونکہ ہماری اصلاح کے لیے چندہ دینا اور جلسے کرنا ضروری ہے۔ستی کی ایک بڑی وجہ یہ ہے کہ آپ کے ذہن میں لجنہ کی اہمیت واضح نہیں۔