خطابات مریم (جلد دوم) — Page 563
خطابات مریم 563 خطابات تعالیٰ قرآن مجید میں فرماتا ہے کہ تمہیں تو دنیا کو فائدہ پہنچانے کیلئے بھیجا گیا ہے۔پس بغیر اس کے کہ کوئی اپنی تکلیف بتائے ناداروں کی حقیقی ضرورتوں پر نظر رکھیں اور ان کی تکالیف دور کرنے کی کوشش کیا کریں۔پانچویں بات اور ان سب باتوں پر عمل کرنے کے لئے عزم چاہئے۔مضبوط ارادہ کام کرنے کا۔مجھے افسوس ہے کہ بعض دفعہ کسی عہدہ دار کو مقرر کیا جائے تو وہ کہتی ہیں کہ فلاں یہ اعتراض کرتا ہے، فلاں یہ اعتراض کرتا ہے۔اعتراض کرنے والوں نے تو نہ نبیوں کو چھوڑا ہے نہ ان کے جانشینوں کو لیکن ان کے ارادوں میں ذرا بھی کمی نہیں آئی۔خدا تعالیٰ کے وعدوں اور اس کی نصرت پر یقین رکھتے ہوئے وہ بڑھتے ہی چلے جاتے ہیں۔پس لجنہ کی سب عہدہ داروں کو بھی اگر وہ اپنے عہدوں میں بچی ہیں اپنے کام پختہ ارادوں کے ساتھ اور ہمت کے ساتھ کرتے چلے جانا چاہئے۔اس سال کیلئے لجنہ اماءاللہ پاکستان نے تمام پاکستان کیلئے تربیت کا بھی یہی لائحہ عمل رکھا ہے خود کوئی لائحہ عمل بنانے کی بجائے حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کے ارشادات کو پایہ تکمیل تک پہنچانا ہمارا سب سے پہلا فرض ہے۔پس آپ کی پوری کوشش ہونی چاہئے کہ جلدی سے جلدی ہم خود بھی ان اخلاق اور عادات کو اپنا ئیں اور ہر عورت اور ہر بچے میں ان باتوں کو پیدا کرنے کی کوشش کریں۔تدبیر کے ساتھ دعا نہ ہو تو تدبیریں ناکام ہو جاتی ہیں۔پس اللہ تعالیٰ پر کامل تو کل رکھتے ہوئے عاجزانہ دعا کرتے ہوئے اپنی کوششوں کو تیز کر دیں جو حوالہ میں نے ابتداء میں پڑھا ہے اس میں حضرت بانی سلسلہ احمدیہ فرماتے ہیں کہ ان کے پھول اخلاق فاضلہ ہیں یعنی جس طرح ایک درخت میں پھول لگتے ہیں اردگرد کی فضا میں ان پھولوں کی خوشبو رچ جاتی ہے۔اسی طرح مذہب کی سچائی کا علم اس مذہب کے ماننے والوں کے اعلیٰ اخلاق سے ثابت ہوتا ہے۔اخلاق فاضلہ کیا ہیں یہ وہ حقوق ہیں جو اللہ تعالیٰ کے بندوں کے ایک انسان نے ادا کرنے ہوتے ہیں۔دنیا میں ظلم اور فساداسی وقت پھیلتا ہے جب کوئی انسان دوسرے کا حق مار لیتا ہے۔اگر کوئی شخص کسی کی بُرائی نہ کرے اسے تکلیف نہ دے۔اس کے حقوق نہ چھینے تو کوئی وجہ نہیں کہ فساد پیدا ہو۔بُرائیاں پھیلتی ہیں تجسس سے، اسی لئے اللہ تعالیٰ نے سورۃ الحجرات میں فرمایا ہے کہ تجس