خطابات مریم (جلد دوم)

by Other Authors

Page 562 of 988

خطابات مریم (جلد دوم) — Page 562

خطابات مریم 562 خطابات سے نمازوں پر قائم کریں۔وقت پر سوچ سمجھ کر وہ نماز ادا کریں۔پھر پہلی بات سچائی کا قیام ہے ایک زمانہ تھا کہ کوئی بھی احمدی خواہ عمل میں کمزور ہوتا تھا مگر اس کی سچائی کی قسم کھائی جاسکتی تھی۔ہمارے دشمن بھی اس کا اقرار کرتے تھے کہ احمدی جھوٹ نہیں بولتے مگر جوں جوں جماعت بڑھی ایسا عصر بھی جماعت میں داخل ہوا جنہوں نے اپنے بچوں کی صحیح تربیت نہ کی اور وہ سچائی سے دور چلے گئے اس کی اصلاح بہت ضروری ہے۔ہماری جماعت کو اسی معیار پر لانا ہماری عورتوں کا فرض ہے جن کی گودوں میں لڑکے بھی پلتے ہیں اور لڑکیاں بھی۔دوسری بات جس کی طرف حضور نے بہت توجہ دلائی ہے وہ ہے نرم زبان کا استعمال۔قرآن کریم نے اس بات کی طرف خصوصی توجہ دلائی ہے فرماتا ہے قُولُوا لِلنَّاسِ حُسْنًا (البقرة: 84) بات وہ کہو جس میں حسن ہو۔کوئی طعن و تشنیع نہ ہو کسی کی غیبت نہ ہو کسی پر اعتراض نہ ہو۔بات جو ڈانٹ ڈپٹ سے کی جائے اتنا اثر نہیں رکھتی جو نرم زبان اور پیار سے سمجھا کر کی جائے۔تعلقات خراب ہونے میں زبان کا بڑا دخل ہے اور ہم نے قومی اتحاد کو قائم رکھنے کیلئے اس میں اتحاد اور تعاون پیدا کرنا ہے اگر ذاتی کمزوریاں ہوں گی آپس کے تعلقات خراب ہونگے تو قومی طور پر متحد ہو کر قربانیاں بھی دینے کے قابل نہ رہیں گے۔تیسری بات جس کی طرف حضور نے توجہ دلائی ہے وہ وسعتِ حوصلہ اپنے اندر پیدا کرنا اور نقصان سے بچنے کی کوشش کرنا ہے۔انسان میں اتنا حمل اور اتنا حوصلہ ہونا چاہئے کہ وہ کسی کی شکایتوں کوسن بھی سکے اور پھر اپنے نفس پر غور کرے کہ اگر واقعی میرا قصور ہے یا مجھ میں یہ بُرائی ہے تو میں اصلاح کروں۔چوتھی بات جس کی طرف آپ نے توجہ دلائی ہے وہ دوسروں کی تکلیف معلوم ہونے پر اس کو دور کرنے کی کوشش کرنا تکلیف کی تو تعریف ہی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ فرمائی ہے که الْمُسْلِم مَنْ سَلِمَ الْمُسْلِمُونَ مِنْ لِسَانِهِ وَيَدِهِ ) بخاری کتاب الایمان ) که حقیقی مسلمان وہ ہے جس کی زبان اور ہاتھ سے دوسرے مسلمان محفوظ رہتے ہیں۔تکلیف نہ پہنچنا یا محفوظ رہنا تو منفی نیکی ہے۔اصل چیز یہ ہے کہ ان کے ذریعہ سے دوسروں کو فائدہ پہنچے اس لئے اللہ