خطابات مریم (جلد دوم)

by Other Authors

Page 559 of 988

خطابات مریم (جلد دوم) — Page 559

خطابات مریم فرمایا:۔559 خطاب مقامی اجتماع لجنہ اماءاللہ ربوہ ( منعقدہ 29 ،30 ستمبر 1990ء) خطابات آج آپ کا سالانہ اجتماع منعقد ہوا ہے۔ہمارا اجتماع نہ کوئی دنیوی میلہ ہے نہ کوئی سیاسی اجتماع ہے۔یہ خالص طور پر مذہبی اور تربیتی اجتماع ہے۔اگر اس کے نتیجہ میں آپ میں تربیتی اور اخلاقی اور روحانی لحاظ سے کوئی تبدیلی پیدا نہ ہو تو پھر اجتماع منعقد کرنے کا کوئی فائدہ نہیں۔ایک انسان جو ایک طرف یہ دعویٰ کرے کہ اس نے صداقت کو پہچان لیا ہے اس کے عمل سے وہ آثار ظاہر ہونے چاہئیں جو سچائی کو ماننے کے نتیجہ میں ظاہر ہوا کرتے ہیں۔حضرت بانی سلسلہ احمدیہ کا ایک بہت ہی پیارا حوالہ ہے جب پڑھوں ہر دفعہ ایک نیا لطف آتا ہے۔نئے مضامین ذہن میں آتے ہیں۔چند فقرات میں عظیم الشان مضمون بیان فرمایا ہے جسے کہتے ہیں کہ کوزہ میں دریا کو بند کر دیا۔اس حوالے کے الفاظ یہ ہیں۔مذہب کی جڑ خدا شناسی اور معرفت نعمائے الہی ہے اور اس کی شاخیں اعمالِ صالحہ اور اس کے پھول اخلاق فاضلہ ہیں اور اس کا پھل برکاتِ روحانیہ اور نہایت لطیف محبت ہے جو رب اور اس کے بندہ میں پیدا ہو جاتی ہے اور اس پھل سے متمتع ہونا روحانی تقدس و پاکیزگی کا مثمر ہے“۔(روحانی خزائن جلد 2 سرمه چشم آریہ صفحہ 281) حضرت بانی سلسلہ احمدیہ نے مذہب کو ایک درخت سے مثال دی ہے جس کی جڑ بھی ہوتی ہے اس میں شاخیں بھی ہوتی ہیں۔پھر اس میں پھول لگتے ہیں پھر پھل لگتا ہے اور جو پھل کھاتا ہے وہ اس کا مزہ اُٹھاتا ہے۔آپ نے فرمایا ہے کہ جس طرح ہر درخت کی ایک جڑ ہوتی ہے جس پر وہ قائم رہتا ہے۔