خطابات مریم (جلد دوم) — Page 560
خطابات مریم 560 خطابات مذہب کی جڑ خدا شناسی اور معرفت نعمائے الہی ہے یعنی اگر آپ نے ایک مذہب کو سچا سمجھ کر اسے دل سے مانا ہے تو اس کو ماننے اور اس کے احکام پر عمل کرنے کے نتیجہ میں آپ میں خدا شناسی پیدا ہونی چاہئے۔یعنی آپ کو اللہ تعالیٰ کی معرفت حاصل ہو جو انعامات آپ پر نازل ہوئے ہوں ان کی پہچان اور قدر آپ کے دل میں ہو۔مذہب حقہ کا سارا دائرہ عمل اللہ تعالیٰ کے حقوق کی بجا آوری اور اللہ تعالیٰ کے بندوں کے حقوق کی بجا آوری کے گردگھومتا ہے۔یعنی اللہ تعالیٰ کی بھیجی ہوئی تعلیم پر صحیح عمل کرنے والا وہی انسان ہوگا جو اللہ تعالیٰ کی عبادت صحیح رنگ میں کرنے اور اس کے بندوں ، اس کی مخلوق کا خیال رکھنے والا ہو۔اس کے ہاتھ سے نہ صرف یہ کہ انہیں کوئی تکلیف نہ پہنچے بلکہ اس کے وجود سے انہیں آرام اور سکھ پہنچے تو مذہب کی جڑ دوسرے الفاظ میں اللہ تعالیٰ سے اپنے تعلق کو مضبوط کرنا ہے۔جیسا کہ قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ:۔آپ دنیا کو بتا دیں میرا کوئی اپنا وجود ہی نہیں۔میری عبادت میری قربانی ، میری زندگی اور میری موت اللہ تعالیٰ ہی کی خاطر ہے۔پس ہم جن کو سب سے زیادہ آنحضرت ﷺ سے محبت کا دعویٰ ہے اور اس کی جماعت میں ہیں جس نے کہا تھا۔بعد از خدا بعشق گر کفر این بود محمد محمرم بخدا سخت کا فرم کہ میں تو اللہ تعالیٰ کے بعد محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے عشق میں مخمور ہوں۔تم اسے کفر کہتے ہو تو بخدا میں سب سے بڑا کافر ہوں۔ہمیں بھی سوچنا اور جائزہ لینا چاہئے کہ کیا ہماری زندگیاں خدا تعالیٰ کی خاطر گزر رہی ہیں کیا ہما را صبح سے شام کرنا اور شام سے صبح کرنا محض اللہ تعالیٰ کے لئے ہے۔ہم کوئی فعل کوئی عمل ایسا تو نہیں کرتے جو اللہ تعالیٰ سے ناراض کرنے والا ہے اور یہ رضا اس کے حکموں پر چلنے سے ہی حاصل ہو سکتی ہے۔جس میں سے سب سے بڑا فرض جماعتی اتحاد ہے کہ ہم سب ایک ہار کے دانوں یا ایک کنگھی کے دندانوں کی طرح ہوں اور کسی ماں کی بے راہ روی کی وجہ سے اس کے گھر میں نفاق داخل نہ ہو جائے۔پھر آپ فرماتے ہیں کہ اس کی شاخیں اعمالِ صالحہ ہیں یعنی جب جڑ مضبوط ہوگی تبھی