خطابات مریم (جلد دوم) — Page 554
خطابات مریم 554 خطابات کوئی جھگڑا ہے تو وہ جانا چھوڑ دیتی ہیں بھول جاتی ہیں کہ اجلاس میں ہم نے خدا کی خاطر جانا تھا دین سیکھنے اور تربیت کیلئے جانا تھا۔تمسخر اُڑانے سے اللہ تعالیٰ نے منع ایک قوم دوسری قوم کی ہنسی نہ اُڑائے فرمایا ہے۔ایک قوم دوسری قوم کی ہنسی نہ اُڑائے عورتیں دوسری عورتوں کی ہنسی نہ اُڑائیں۔تمہیں کیا معلوم کہ ان کے دلوں میں اللہ تعالیٰ کا کتنا پیار ہے وہ بھی اللہ تعالیٰ کی بندیاں ہیں اور خدا تعالیٰ انہیں پسند کرتا ہے اور خدا تعالیٰ پسند نہیں کرتا کہ اس کے بندوں کو کوئی تکلیف پہنچائے خواہ جذباتی تکلیف ہو یا جسمانی، جھگڑے اور فساد کی ایک اور وجہ بدظنی ہے اس لئے منع فرماتا ہے کہ يَايُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اجْتَنِبُوا كَثِيرًا مِّنَ الضّانّ بَعْضَ الاِثْمَّ (الحجرات: 13) اے مومنو بدگمانی سے بچو، بہت سی بدگمانیاں گناہ میں مبتلا کر دیتی ہیں بدظنی پیدا ہونے کے نتیجہ میں انسان تجسس کرتا ہے جس کا نتیجہ بعض دفعہ بہت بُرا نکلتا ہے۔تجسس ختم کرنے کیلئے الہی ارشاد کے مطابق گھروں میں اجازت لے کر جاؤ۔تین وقت صبح دو پہر اور عشاء کے بعد جب مرد گھر میں ہوتے ہیں ایسے وقت ہوتے ہیں کہ عورتوں کو نہیں جانا چاہئے۔اگر کسی سے کہا جائے کہ واپس چلے جاؤ نہیں مل سکتے تو بُرا منانے کی کوئی بات نہیں۔پھر تجس کے نتیجہ میں کسی کے علم میں کوئی بُرائی آ جاتی ہے اگلا دوسرے کو بتا دیتا ہے اسی کو غیبت کہتے ہیں۔اگر ایک عورت میں بُرائی پائی جاتی ہے اس کے متعلق دوسروں کو بتایا نہیں جاتا اور ہو سکتا ہے کہ کسی وقت اس کو احساس ہو اور وہ اسے چھوڑ دے اور اس کو دوسروں کے بتانے سے خود اس کے دل میں بھی بُرائی کا احساس مٹ جائے گا۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے غیبت ایسا ہی فعل ہے جیسا کہ مردہ بھائی کے جسم سے گوشت کاٹ کر کھانا۔ہماری ترقی کیلئے اور معاشرے کی اصلاح کے لئے یہ ضروری ہے کہ آپس میں دل صاف ہوں۔صلح کے ساتھ رہیں اور وہ طاقت جو غیروں کے مقابلے پر خرچ کرنی ہے وہ اپنوں سے لڑنے میں خرچ نہ کریں۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں کشتی نوح میں کہ :۔تم آپس میں جلد صلح کرو اور اپنے بھائیوں کے گناہ بخشو کیونکہ شریر ہے وہ