خطابات مریم (جلد دوم) — Page 552
خطابات مریم 552 خطابات چوری کرنا ، بدکاری کرنا ، اولاد کی تربیت نہ کرنا اور جھوٹ بولنا یہ سب انسان کے حقوق کی حق تلفی ہے۔جب کوئی انسان چوری کرتا ہے تو دوسرے کے مال پر قبضہ جماتا ہے۔جب انسان کوئی بے حیائی کرتا ہے تو اس میں دوسرے کو بھی ملوث کرتا ہے۔جھوٹ بولتا ہے تب بھی دوسرا انسان اس کے ظلم کا شکار ہو رہا ہوتا ہے۔اولاد کے قتل سے مراد اس کی صحیح تربیت نہ کرنا ہے۔پیارے پیارے بچوں کی تعلیم و تربیت ان کے قومی ، ان کے ٹیلنٹس کو نہ اُبھار نا ان کی حق تلفی اور ناقدری ہے۔یہ سب امور ظلم میں شامل ہوتے ہیں۔ظلم کے معنی دوسرے کے حق مارنے کے ہیں۔کم از کم احمدیوں کی شان یہ نہیں کہ ان میں سے کسی ایک کا حق مارا جائے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے بھی شرائط بیعت میں ان امور کو شامل فرمایا۔پہلی شرط تو یہ ہے کہ بیعت کنندہ سچے دل سے عہد اس بات کا کرے کہ آئندہ اس وقت تک کہ قبر میں داخل ہو جائے شرک سے پر ہیز کرے گا۔دوسری شرط یہ ہے کہ جھوٹ اور زنا اور بدنظری اور ہر قسم کے فسق و فجو راور خیانت اور فساد اور بغاوت کے طریقوں سے بچتا رہے گا اور نفسانی جوشوں کے وقت ان کا مغلوب نہیں ہو گا۔اگر چہ کیسا ہی جذبہ پیش آئے۔چوتھی شرط مخلوق کے حقوق کے متعلق ہے کہ عام خلق اللہ کو عموماً اور مسلمانوں کو خصوصاً اپنے نفسانی جوشوں سے کسی نوع کی ناجائز تکلیف نہیں دے گا۔نہ زبان سے نہ ہاتھ سے نہ کسی اور طرح۔یہ دراصل آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث کی تشریح ہے۔اَلْمُسْلِم مَنْ سَلِمَ الْمُسْلِمُونَ مِنْ لِسَانِهِ وَيَدِهِ ( بخاری کتاب الایمان باب مسلم ) کہ مسلمان حقیقی وہی ہے جس کے ہاتھ سے یا جس کی زبان سے دوسرے مسلمان محفوظ ر ہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے بیعت کی شرائط شائع کر کے فرمایا جو لوگ اس ابتلاء کی حالت میں اس دعوت بیعت کو قبول کر کے اس سلسلہ مبارکہ میں داخل ہو جائیں وہ ہماری جماعت سمجھے جائیں۔وہ ہمارے خالص دوست متصور ہوں اور وہی ہیں جن کے حق میں خدا نے مجھے مخاطب کر کے فرمایا کہ میں انہیں ان کے غیروں پر قیامت تک فوقیت دوں گا اور برکت اور رحمت ان کے شامل حال رہے گی اور یہ مجھے فرمایا کہ تو میری اجازت سے میری آنکھوں کے