خطابات مریم (جلد دوم) — Page 549
خطابات مریم 549 خطابات ہے۔اس معاشرے کے خدو خال بیان کرنے سے قبل یہ بات بتانی ضروری سمجھتی ہوں کہ معاشرہ افراد سے بنتا ہے اور ہر فرد معاشرے کا ایک یونٹ ہے ایک اکائی ہے ایک گھر میں رہنے والے افراد قرآن کریم کی تعلیم کے مطابق چلیں اور اپنی ذمہ داریوں کا احساس ان میں پیدا ہو جائے آہستہ آہستہ ایک گھر سے دوسرے گھر اور دوسرے گھر سے تیسرے گھر کی اصلاح ہوتی چلی جاتی ہے اور معاشرے کی اصلاح ہو جاتی ہے۔اس سلسلہ میں سب سے بڑی ذمہ داری مرد کی ہے جسے اللہ تعالیٰ نے قوام بنایا ہے کہ وہ دیکھے اس کی بیوی اور بچے اس تعلیم پر عمل کر رہے ہیں یا نہیں جس تعلیم کا وہ دعوے دار ہے اور ان کی تربیت ان کے مطابق ہو رہی ہے یا نہیں۔بیشک مرد قوام ہے اور پہلا ذمے دار اپنے گھر کی اصلاح کا وہی ہے۔مگر اولاد کی پرورش میں زیادہ ذمہ داری عورت پر پڑتی ہے کیونکہ مرد کا زیادہ وقت گھر سے باہر گزرتا ہے اس لئے اللہ تعالیٰ نے سب سے مخاطب ہو کر فرمایا ايُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا قُوا أَنْفُسَكُمْ وَ أَهْلِيكُمْ نَارًا (التحریم: 7) اے مومنو اپنے آپ کو آگ سے بچاؤ اور اپنے گھر والوں کو بھی آگ سے بچاؤ۔صرف یہ نہیں دیکھنا کہ تم خدا تعالیٰ کے کہنے پر چل رہے ہو بلکہ اپنے گھر والوں کی تربیت کا بھی تم نے خیال رکھنا ہے۔ایک انسان کی ذاتی نیکی اور ذاتی قربانی صرف اس کی زندگی تک جاری رہتی ہے لیکن جو شخص اپنی اولاد کی تربیت کرتا ہے لڑکوں کی کرتا ہے اور لڑکیوں کی بھی ان کے ذریعہ سے اس کی نیکیاں اور قربانیاں لمبے عرصے تک قائم رہتی ہیں اور یہ سلسلہ جاری رہتا ہے اس کی تائید نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک حدیث سے بھی ہوتی ہے۔حضرت ابو ہریرہ روایت کرتے ہیں کہ رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب بندہ مرجاتا ہے تو اس کے عمل منقطع ہو جاتے ہیں سوائے تین اعمال کے ایک صدقہ جاریہ دوسرا ایسا علم جس سے لوگ فائدہ اُٹھا ئیں اور تیسرے نیک بچہ جو ماں باپ کے لئے دعا کرتا رہے۔پس کتنی بڑی خوشخبری ہے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی ان لوگوں کے لئے جو اپنے گھر والوں کی تربیت کی طرف پوری توجہ دیتے ہیں۔انسان کی پیدائش کی غرض خدا تعالیٰ کا پیار حاصل کرنا ہے۔تمام انبیا ء اسی لئے آئے کہ انسان کو پاک بنائیں تا وہ خدا تعالیٰ کا قرب اور پیار حاصل کر سکیں۔لیکن انبیاء کا سب سے بڑا کمال اور فضیلت ہمارے آقا حضرت رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو حاصل ہے جن کے