خطابات مریم (جلد دوم) — Page 550
خطابات مریم 550 خطابات آنے کی اغراض میں ایک غرض معاشرے کو پاک کرنا بھی تھا۔جیسا کہ قرآن کریم میں خدا تعالیٰ فرماتا ہے۔جس طرح ہم نے تم میں ایک رسول بھیجا تمہیں میں سے جو ہماری آیات تمہیں پڑھ کر سنا تا ہے اور تمہیں پاک کرتا ہے اور تمہیں کتاب اور حکمت سکھاتا ہے اور تمہیں وہ کچھ سکھاتا ہے جو تم نہیں جانتے تھے۔یہ آیت بتاتی ہے کہ پاک معاشرے کا قیام اپنی تعلیم اور نصیحت سے کرنا بہت اہم فریضہ تھا۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا اور اب بھی آپ کی بیان کردہ نصائح اور تعلیم پر عمل کریں گی آپ کی پیروی کریں گی آپ کا راستہ اختیار کریں گی تو یقیناً پاک قرار دی جائیں گی۔پاکیزگی سے مراد صرف جسمانی صفائی اور طہارت نہیں بلکہ روحانی صفائی بھی مراد ہے یعنی جسم بھی پاک ہو ، گھر بھی پاک ہو، کپڑے بھی پاک ہوں، خیالات بھی پاک ہوں ، جذبات بھی پاک ہوں، دل میں کسی کے لئے نفرت نہ ہو ، دل میں کسی کے لئے حسد نہ ہو۔مجھے بڑا افسوس ہوتا ہے جب لجنات سے بعض وقت میں خاص یہاں کی بات نہیں کر رہی ہر جگہ ہی جاتی رہی ہوں بعض ملکوں میں بھی اور پاکستان کے شہر شہر گاؤں گاؤں میں بھی اکثر جگہ اس قسم کی شکایتیں ہیں کہ بہنیں تعاون نہیں کرتیں۔کہیں یہ ہے کہ اس کے گھر میں اجلاس کیوں ہوتا ہے ہمارے گھر میں ہو۔مطلب یہ کہ بہت چھوٹی چھوٹی سی باتوں پر آپس میں اختلافات شروع ہو جاتے ہیں۔خود ہی انتخاب صدر کا کیا ہوگا اور خود ہی اس کی مخالف ہو جائیں گی۔شکایتیں آنی شروع ہو جائیں گی حالانکہ اسلام کی تعلیم کا محور اطاعت ہے۔جس کو آپ کا صدر بنایا جائے چاہے وہ کتنا ہی کم علم ہو کتنا ہی کم فہم آپ سے علم میں عقل میں کم ہے لیکن جب آپ نے ایک دفعہ انتخاب کر لیا اس کا تو جب تک وہ اس عہدے پر قائم ہے اس کی پوری پوری اطاعت کی ذمہ داری ہے آپ پر۔یہ بڑا ہی ضروری اور سنہری اصول ہے قرآن کریم کا جو ہر بہن کو یا د رکھنا چاہئے کہ اطاعت محور ہے ہماری اسلام میں ترقی کا جہاں اطاعت کی بجائے نافرمانی شروع ہو جائے ، عدم تعاون ہوا اپنی صدر سے یا سیکرٹری سے یا کوئی بھی عہدے دار ہو خواہ وہ مرد ہوں عورتیں ہوں یا لڑکیاں ہوں اس لجنہ میں یا مردوں کی تنظیم ہے تو اس میں کمزوری واقع ہو جاتی ہے۔وہی جماعت ترقی کرتی