خطابات مریم (جلد دوم) — Page 32
خطابات مریم 32 32 تحریرات حیثیت سے۔حضرت مصلح موعود بہت محبت فرماتے تھے اور وہ بھی اپنے ماموں جان سے خاصی بے تکلف تھیں۔ان کا بہت خیال رکھتی تھیں۔جب اپنی کوٹھی سے دارا مسیح آتیں اکثر ان کے لئے کچھ نہ کچھ پکا کر لایا کرتی تھیں یا حضرت اماں جان کے گھر آ کر رہتیں تو کوئی نہ کوئی چیز ضرور تیار کر دیتیں جسے حضرت مصلح موعود بہت خوشی سے کھاتے ایک دو دفعہ اپنے ہاتھ سے سویٹر بھی بن کر دیئے۔اغلبا 1944ء میں آپ بیمار ہو گئی تھیں امۃ الحلیم کی پیدائش کے بعد حضرت مصلح موعود نے ان کو بغرض علاج دہلی بھیجا علاج لمبا چلا تو منصورہ بیگم کو بہت احساس تھا کہ ماموں جان پر بہت بوجھ میری وجہ سے پڑ رہا ہے۔حضرت نواب مبارکہ بیگم صاحبہ کی روایت ہے کہ انہوں نے لکھا کہ آپ پر اتنا خرچ میری وجہ سے پڑ رہا ہے۔مجھے بہت شرم آتی ہے تو انہوں نے منصورہ ربیگم کو لکھا کہ تمہاری جان سے زیادہ مجھے روپیہ عزیز نہیں ہے تم ہزاروں کا کہتی ہو اگر ایک لاکھ بھی علاج پر خرچ ہو جائے تمہاری صحت کی خاطر مجھے پرواہ نہیں۔بہت پیار کرنے والی بھاوج ثابت ہوئیں سب دیوروں نندوں سے بہن بھائیوں سے بڑھ کر سلوک کیا حضرت مصلح موعود کی سب بیویوں سے بہت عزت و محبت سے پیش آتی تھیں۔سب سے اچھا تعلق رکھا میں تو اکثر ان سے کہتی تھی میرا اور آپ کا خالہ کا رشتہ ہے اور آپ کی امی جان سے مجھے بہت پیار ہے یہی قائم رہنے دیں ہنستی تھیں اور کہتی تھیں خالہ ہی سمجھتی ہوں تبھی تو بچوں سے آپ کو دادی خالہ کہلوایا ہے بڑی ہی محبت کرنے والی ماں تھیں اپنے بچوں کو کبھی نوکر پر نہیں چھوڑا خود سارے کام کئے بہترین تربیت کی اور یہی خواہش تھی کہ سلسلہ کی خدمت کریں۔ان کے دل میں ہمیشہ احمدیت اور جماعت کی محبت کا جذبہ پیدا کیا بچوں کی شادیاں ہوئیں تو ایک مثالی ساس ثابت ہوئیں۔اپنی بہوؤں سے بیٹیوں سے زیادہ پیار کیا ان پر اعتماد کیا جس کے نتیجہ میں ان کو بھی اپنی ماؤں سے بڑھ کر ان سے پیار تھا اور ہے۔قابل رشک زندگی آپ نے قابل رشک زندگی گزاری اور ہر ذمہ داری کوسنوار کرادا کیا۔سنوار کر نماز پڑھنے والی کثرت سے ذکر الہی کرنے والی - بہت دعائیں کرنے والی تھیں اور ان امور کی طرف اپنی تقاریر میں مستورات اور بچیوں کو توجہ بھی بہت دلایا کرتی تھیں آخری تقریر جو آپ نے لجنہ اماءاللہ کے سالانہ اجتماع 1981ء کے موقعہ