خطابات مریم (جلد دوم) — Page 543
خطابات مریم 543 خطابات نہیں ہوسکتا اور اس کی تاثیر قدسی کا اندازہ کرنا انسان کا کام نہیں۔افسوس کہ جیسا حق شناخت کا ہے اس کے مرتبہ کو شناخت نہیں کیا گیا وہ تو حید جو دنیا سے گم ہو چکی تھی وہی ایک پہلوان ہے جو دوبارہ اس کو دنیا میں لایا۔ہم کا فر نعمت ہونگے اگر اس بات کا اقرار نہ کریں کہ تو حید حقیقی ہم نے اسی نبی کے ذریعہ سے پائی اور زندہ خدا کی شناخت ہمیں اسی کامل نبی کے ذریعہ سے اور اس کے نور سے ملی ہے۔“ (روحانی خزائن جلد 22 حقیقۃ الوحی صفحہ 118-119) یہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا کہنا ہے پس جاننا چاہئے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعے تو حید کامل کا ظہور ہوا ، اسلام کا غلبہ ہوا۔ایک اعلیٰ ارفع نظام دنیا میں رائج ہوا۔مسلمان جب تک خالص تو حید پر قائم رہے اور قرآن مجید کے اصولوں پر عمل کرتے رہے تو ساری دنیا پر چھائے رہے لیکن جونہی ان میں کمزوریاں پیدا ہونی شروع ہوئیں قرآن عظیم کی تعلیم پر ان کا عمل نہ رہا وہ مغلوب ہوتے چلے گئے یہاں تک کہ وہ وقت بھی آگیا کہ ایک مسلمان اپنے آپ کومسلمان کہتے ہوئے شرما تا تھا۔نہ حرارت ایمانی تھی ، نہ غیرت دینی ، نہ علم رہا نہ عمل رہا۔اس زمانے میں جب ہر طرف اسلام پر حملے ہو رہے تھے اللہ تعالیٰ نے اسلام کے غلبے کے لئے اور اس حقیقی تو حید کے قیام کی خاطر حضرت مہدی علیہ السلام کو اپنے وعدوں اور آنحضرت عیہ کی بشارتوں کے مطابق مبعوث فرمایا۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے بھی اپنی بعثت کی غرض یہی بتائی ہے کہ انبیاء علیہم السلام کے دنیا میں آنے کی سب سے بڑی غرض اور ان کی تعلیم اور تبلیغ کا عظیم الشان مقصد یہ ہوتا ہے کہ لوگ خدا تعالیٰ کو شناخت کریں اور اس زندگی سے جو انہیں جہنم اور ہلاکت کی طرف لے جاتی ہے اور جس کو گناہ آلو د زندگی کہتے ہیں نجات پائیں۔چنانچہ حضور فرماتے ہیں حقیقت میں یہی بڑا بھاری مقصد ان کے آگے ہوتا ہے پس اس وقت بھی خدا تعالیٰ نے یہ سلسلہ قائم کیا ہے اور اس کے لئے مجھے مبعوث فرمایا ہے ، تو میرے آنے کی غرض بھی وہی مشترک غرض ہے جو سب نبیوں کی تھی یعنی میں بتانا چاہتا ہوں کہ خدا کیا ہے بلکہ دکھانا چاہتا ہوں اور گناہ سے بچنے کی راہ کی طرف راہبری کرتا ہوں“۔ایک دوسری جگہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام اپنے آنے کی غرض یوں بیان فرماتے ہیں۔