خطابات مریم (جلد دوم) — Page 529
خطابات مریم 529 خطابات ایک جلسہ سالانہ کے موقعہ پر اس میں بھی آپ کے تعاون کی ضرورت ہے۔مصباح کا چندہ 3 روپے سالانہ کر دیا گیا ہے۔آئندہ سال کے پروگرام تو اس سال کے لائحہ عمل میں شائع کر دیئے گئے ہیں۔ان کی روشنی میں ہر لجنہ اپنے پروگرام بنائے۔اور اس کے نتائج مرکز کو بھجوائے۔لیکن ظاہری طور پر جشن منانے اور خوشی کے اظہار کے ساتھ ساتھ دلوں میں تبدیلی پیدا کریں۔اپنے آپ کو دنیا کیلئے نمونہ بنائیں۔اللہ تعالیٰ بھی قرآن مجید میں فرماتا ہے کہ اللہ تعالیٰ اس وقت تک ان کے دلوں میں تبدیلی پیدا نہیں کرتا جب تک کہ وہ خود دلوں میں تبدیلی پیدا نہ کریں۔حضرت خلیفۃ امسیح الرابع بھی اگلی صدی کے آنے سے قبل جماعت کو تربیتی امور کی طرف بار بار توجہ دلا رہے ہیں۔نماز کے قیام کی طرف کئی خطبات میں توجہ دلائی۔نیتوں کی صفائی پر بھی۔اب 21 /اکتوبر کے خطبہ میں لین دین کی صفائی پر زور دیا ہے۔اور فرمایا جس نے اصلاح نہ کی اس کے خلاف جماعتی کارروائی کی جائے گی۔درخت اپنے پھلوں سے پہچانا جاتا ہے۔حضرت مسیح موعود سرمہ چشم آریہ میں فرماتے ہیں۔مذہب کی جڑھ خدا شناسی اور معرفت نعماء الہی ہے اور اس کی شاخیں اعمال صالحہ اور اس کے پھول اخلاق فاضلہ اور اس کا پھل برکات روحانیہ اور نہایت لطیف محبت ہے جو رب اور اس کے بندہ میں پیدا ہو جاتی ہے اور اس کے پھل سے متمتع ہونا روحانی تقدس و پاکیزگی کا مثمر ہے۔(روحانی خزائن جلد 2 ، سرمه چشم آریہ صفحہ 281) ان چند سطروں میں حضرت مسیح موعود نے ایک وسیع مضمون بیان کیا ہے کہ مذہب کی جڑ کیا ہے۔اور وہ کیا ذرائع ہیں جن سے پہچانا جا سکے کہ واقعی یہ شخص صداقت پر ہے اور کیا اس مذہب کو ماننے کے نتیجہ میں اس میں وہ عظیم الشان تبدیلی پیدا ہوئی ہے یا نہیں؟ پس احمدیت کی صداقت کے ثبوت میں ہم نے اپنے اخلاق فاضلہ اور روحانی برکات کو احمدیت کے پھولوں اور پھلوں کے طور پر پیش کرنا ہے۔حضرت مسیح موعودؓ کو ماننے اور احمدی جماعت میں شامل ہونے کے ذریعے کیا انقلاب ہماری زندگیوں میں رونما ہوئے۔اگر کوئی تبدیلی پیدا نہیں ہوئی تو مانے کا کیا فائدہ وہ تبدیلی اتنی نمایاں ہونی چاہیے کہ ہمیں کا فر ہی کہیں