خطابات مریم (جلد دوم) — Page 513
خطابات مریم 513 خطابات حصہ لیں اور اس میں ضلع کی لجنہ جائزہ لے کہ کوئی بہن لاعلمی کی وجہ سے محروم نہ رہ جائے۔87-88ء کا بجٹ 00-11,42,184 روپے تجویز کیا گیا تھا۔الحمد للہ 88-87ء کی کل آمد 12,88,723,43 روپے ہوئی ہے۔اور 88-87 ء کا کل خرچ 10,08,316,83 روپے ہوا۔گویا اس سال کل بچت 2,79,806,60 روپے ہوئی 1987-88ء میں دو لاکھ روپے جو بلی فنڈ کا قرض بھی ادا کیا گیا۔جب دفتر لجنہ کی تعمیر شروع ہوئی تھی تو لجنہ کے پاس اتنی رقم نہیں تھی۔دس لاکھ روپے حضور نے جو بلی فنڈ سے دلوایا۔اس شرط کے ساتھ کہ جو بلی والے سال سے قبل واپس کر دیا جائے اور دفتر کے چندہ کے لیے کوئی تحریک نہیں کرنی۔عمومی بچت سے ادا کیا جائے۔پانچ لاکھ روپے لجنہ اماءاللہ کے پاس تحریک خاص کا تھا۔مگر اس میں سے بھی کچھ خرچ ہو چکا تھا۔ساٹھ ہزار روپے لجنہ لا ہور نے صدر کے دفتر کیلئے دیا تھا۔60 ہزار روپے مکر مہ ناصرہ صاحبہ کراچی نے ایک کمرہ کیلئے دیا تھا۔کمیٹی روم ان کی طرف منسوب کیا گیا ہے۔باقی سارا قرضہ الحمد للہ وقت کے اندر اندر بچت سے ہی ادا ہو جائیگا۔الحمد للہ ثم الحمد للہ۔ناصرہ بشیر صاحبہ نے کچھ رقم کمیٹی روم میں ائر کنڈ یشنز لگانے کے لیے بھی دی ہے۔عنقریب ادا کر دیں گی۔1986ء میں لجنہ اماءاللہ نے Mitsubishi وین بھی خریدی تھی۔اس میں کچھ نقص پیدا ہونے پر لجنہ نے اس سال اسے فروخت کر کے ٹیوٹا Hiace خریدی۔یہ مہنگی ہے جس کی وجہ سے پرانی وین کی قیمت پر 2,91,850 روپے زائد خرچ کرنے پڑے۔یہ رقم فی الحال تعمیر ہال کے فنڈ سے لے لی گئی ہے۔اس میں سے بھی اس سال کی بچت میں سے=/75000 روپے واپس کر دیے گئے۔گویا / 2,16,850 روپے اور ادا کرنے باقی ہیں۔امید ہے دوران سال باقی رقم بھی ادا ہو جائے گی۔عمومی اخراجات کے علاوہ اس سال دفتر لجنہ کی عمارت پر Paint کروایا گیا۔جس پر 58,332/25 روپے خرچ آیا پندرہ لاکھ روپے جو دفتر کی عمارت کے خرچ کے لیے ٹیکنیکی کمیٹی کو دیئے گئے اس میں سے بچی ہوئی رقم کو ادا کر کے باقی 23,794/68 روپے لجنہ کے فنڈ میں سے