خطابات مریم (جلد دوم) — Page 504
خطابات مریم 504 خطابات غلامی میں ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے بھی اپنی کتاب کشتی نوح اور ملفوظات میں، جھوٹ ، تجسس اور غیبت سے منع فرمایا ہے۔حضرت مسیح موعود کا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے اُسوہ پر عمل تھا۔مگر آپ حضرت مسیح موعود علیہ السلام اور آپ کے خلفاء کے ہاتھ پر بیعت کر کے اور تنظیموں کا عہدد ہرا کر بھی اپنی کمزوریوں کو چھوڑ نہیں رہیں۔آپ نے خواتین کو تاکید فرمائی کہ قرآن کریم پڑھیں اور اس کا ترجمہ سیکھیں۔اپنے بچوں کو بھی اس طرف توجہ دلائیں۔جب تک آپ ترجمہ نہیں سیکھیں گی آپ کو اوامر و نواہی کا علم نہیں ہو سکے گا۔اور اُسوہ رسول ﷺ کو اپنا نہیں سکیں گی۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی اتباع کئے بغیر نجات حاصل نہیں ہوسکتی۔سیرۃ النبی صلی اللہ علیہ وسلم کے جلسوں اور جماعت سے منسلک ہونے کا اصل مقصد یہ ہے کہ اپنی زندگیاں قرآنِ مجید کے مطابق ڈھالیں۔فرمایا کہ خدا کی طرف سے ملنے والی بشارتیں ضرور پوری ہونگی لیکن اس کے لیے بڑی قربانیوں کی ضرورت ہے۔جب تک ہم اپنے نفسوں پر موت وارد نہیں کر لیتے جماعت ترقی نہیں کر سکتی۔حضرت خلیفہ اسیح الرابع ہر خطبہ میں بُرائیوں کو چھوڑنے کی طرف توجہ دلا رہے ہیں لیکن افسوس ہے کہ ہم اس کی طرف پوری توجہ نہیں دے رہے۔یہ ہمارا بہت بڑا کارنامہ ہوگا اگر ہم اپنے پیچھے ایسی نسل چھوڑ کر جائیں گی جو ہم سے زیادہ مخلص اور دین کیلئے غیرت رکھنے والی اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے سچی محبت کرنے والی ہو۔(سالانہ رپورٹ لجنہ اماءاللہ مرکز یہ 1988ء)