خطابات مریم (جلد دوم)

by Other Authors

Page 503 of 988

خطابات مریم (جلد دوم) — Page 503

خطابات مریم 503 خطابات دورہ نارنگ منڈی مورخہ 21 جنوری 1988ء تشہد ، تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد آپ نے فرمایا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات ہمارے لئے ایک کامل نمونہ ہے۔خود آپ نے فرمایا ہے۔قُلْ اِنْ كُنتُمْ تُحِبُّونَ الله فَاتَّبِعُونِي (آل عمران: 32) انسان کی زندگی کا محور اللہ تعالیٰ کی ذات ہے۔خدا تعالیٰ کا قرب ہم اُس وقت تک حاصل نہیں کر سکتے جبتک کہ ہم آنحضرت ﷺ کے اُسوہ کو نہ اپنا ئیں اور آپ کی تعلیمات پر عمل نہ کریں۔اگر آپ کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت کا دعوی ہے تو اپنے نفسوں کا تجزیہ کریں اور جائزہ لیں کہ آپ کس حد تک آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیمات پر عمل کر رہی ہیں۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت سے قبل دنیا تاریکی اور اندھیرے میں ڈوبی ہوئی تھی۔کوئی حسن اور خوبی موجود نہ تھی۔زندگی جانوروں سے بدتر تھی لیکن نبی کریم ﷺ کی آمد - تھوڑے ہی عرصہ میں انسان کی کایا پلٹ گئی۔اور پھر وہ انسان سے باخدا اور خدا نما انسان بن گئے۔ہم نے بھی اپنی زندگیاں اسی طرح گزارنی ہیں اور دنیا کو آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کے حسن سے روشناس کروانا ہے۔آپ کے اعلیٰ اخلاق و اوصاف اور ان کی باریکیاں اپنے عمل سے دنیا کو دکھانی ہیں۔صرف مضامین اور نعمتوں پر ہی اکتفا نہیں کرنا۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے عورتوں پر اس قدر احسانات ہیں کہ ایک عورت رات دن مسلسل آپ پر درود پڑھتی رہے تو پھر بھی اِن احسانات کا بدلہ نہیں چکا سکتی۔آنحضرت مے جھوٹ کو بالکل برداشت نہیں فرماتے تھے لیکن افسوس ہے کہ جماعت میں اب بھی خواہ تھوڑی ہی تعداد میں ہوں خواتین اس برائی کو چھوڑ نہیں رہیں۔اور آپ کی تعلیم کی نفی کر رہی ہیں۔آپ نے فرمایا کہ اگر آپ نے آنحضرت ﷺ کو مانا ہے تو آپ کی نجات صرف آنحضرت عیہ کی